خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 689

خطبات طاہر جلد ۶ 689 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء (دیوان غالب صفحه : ۱۸۲) تو جہاں محبت ہو وہاں اس چیز کو سادگی کہہ دیتے ہیں لیکن جہاں محبت نہ ہو اور جذبات سے عاری نظر سے دیکھا جائے وہاں اس چیز کا نام حماقت ہوتا ہے،انتہائی بیوقوفی کہا جاسکتا ہے۔پس ایسی قوم جو ہتھیاروں کے بغیر نکلے اور دنیا پر غالب آنے کے دعوے کرے وہ حماقت میں تو مبتلا قرار دی جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی دور کا بھی امکان ہے کہ یہ کبھی دنیا پر غالب آجائے گی۔اس لئے قرآن کریم نے بعض چھوٹی چھوٹی آیات میں حکمتوں کے دریا بند کر رکھے ہیں جیسے کوزے میں دریا بند کرنے کا محاورہ ہے۔واقعہ قرآن کریم میں ایسے کوزے ہیں جن میں حکمتوں کے دریا بند ہیں۔تو اس چھوٹی سی آیت نے ہمیں اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ دلا دی۔ہمیں یہ بتایا کہ ہمارا مقام کیا ہے؟ ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہم اپنی نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے آپ کو بچائیں۔جب تک ہم اپنے وجود کو نیکیوں سے نہیں بھرتے اس وقت تک آئندہ نسلوں کی حفاظت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ وہی لوگ ہیں جن کی اولاد میں ضائع ہوتی ہیں جن کے اندر خلا ہیں جو خود مادیت سے پہلے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں۔وہ خود اپنا سر خم کر چکے ہوتے ہیں دنیا کے رعب کے سامنے اور ان کی برائیوں کو بظاہر برائیاں سمجھتے ہوئے بھی ، ان کی طرف ان کو جانے دیتے ہیں اور اس وقت تشویش محسوس نہیں کرتے۔جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں، جب ان کی عادات پختہ ہو جاتی ہیں اس وقت ان کا کل نیکی کا جذبہ اچانک جیسے ہوش آ جائے اس کو ، اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اچھا اچھا! میری اولا د و ضائع ہو رہی ہے اس کو بچانے کی کوشش کی جائے۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ بچانے کی کوشش ہمیں اپنی ذات سے کرنی پڑے گی۔اگر ہمارے دل نیکیوں سے بھرے ہوئے ہیں، اگر ہمارے اعمال حسن ہیں تو پھر نہ ہمیں خوف ہے نہ ہماری اولا دکو کوئی خوف کیونکہ ایسی صورت میں ہم اپنی اولاد کو بھی صحیح معنوں میں نیک بنانے کی بچپن سے کوشش کر سکتے ہیں۔اگر یہ نہیں ہے، اگر دنیا سے مرعوب ہیں تو پھر کوئی ایسی ترکیب کارگر نہیں ہوگی جو میں آپ کو زبانی بتا سکوں۔اب اس پہلو سے آپ اپنا جائزہ لیں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں ، اپنی تمناؤں کے رخ