خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 691
خطبات طاہر جلد ۶ 691 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء دیکھو! اپنی اولادوں کی فکر کرو۔اگر تم یہ فکر نہیں کرو گے کہ کل کے لئے کل آئندہ زمانے کے لئے تم کیسے لوگ آگے بھیج رہے ہو تو تمہیں اس کا شدید نقصان پہنچے گا اور تمہارے وہ اعمال جن کے نتیجے میں آئندہ اولادیں خراب ہوں گی وہ خدا کی نگاہ میں ہیں۔یعنی تمہارے اعمال ہیں لیکن ان کا اثر اولادوں کے اوپر ظاہر ہونے والا ہے۔تمہیں دکھائی نہیں دے رہا وہ اثر لیکن آئندہ اولا دیں ایسی ہیں جن کے بارے میں تم پوچھے جاؤ گے۔یہ ہے وہ بنیادی مضمون جس پر آپ غور کریں تو یہ مسئلہ آپ کو اور زیادہ وضاحت سے سمجھ آجائے گا۔فرماتا ہے خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے، خوب باخبر ہے اور اس طرز بیان میں زور اس بات پر دیا گیا ہے گویا تم باخبر نہیں ہو مگر خدا باخبر ہے، تم بے خبر ہو اور خدا با خبر ہے۔اِنَّ اللهَ خَبِير بِمَا تَعْمَلُونَ تمہیں معلوم نہیں کہ تم کیا کر رہے ہو لیکن اللہ خوب خبر رکھتا ہے۔یہ ہے بنیادی بیان اور اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اپنی اولادوں کی فکر کرو۔مراد یہ ہے کہ تمہارے بعض اعمال ایسے ہیں تمہیں علم ہی نہیں کہ ان کے کیا اثرات پیدا ہو رہے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ ان کے اثرات تمہارے تک محدود نہیں رہیں گے ، آئندہ نسلوں تک پھیلیں گے۔اس لئے اے تقویٰ اختیار کرنے والو! خوب خیال رکھو اور فکر کرو کہ آئندہ زمانوں کے لئے تم کیا بھیج رہے ہو۔پس اس وضاحت کے ساتھ خوب معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم ایسے اعمال کی بات کر رہا ہو کر ہے جن کا اثر مستقبل پر پڑتا ہے اور انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیسے اعمال ہیں لیکن خدا جانتا ہے کہ مستقبل پر وہ ضرور اثر دکھائیں گے اس لئے متنبہ فرماتا ہے۔فرمایا:۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللَّهَ فَانْسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَيكَ هُمُ الفُسِقُونَ ایسے لوگوں کی طرح نہ بنو جو خدا کو بھول جائیں کیونکہ پھر خدا ان کو اپنے حال سے بے خبر کر دیتا ہے۔فَأَنْسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ وہ خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔اب دیکھ لیں اس مضمون کا اس سے کتنا گہرا اور براہ راست تعلق ہے۔جو قوم جو اپنے اعمال سے بے خبر ہو وہی ہے جو اپنے آپ کو بھول رہی ہے۔اسی کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے اگلی آیت میں۔اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ خدا جانتا ہے کہ تم کیا کر رہے اور تم نہیں جانتے کیونکہ تم وہ ہو