خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 678
خطبات طاہر جلد ۶ 678 خطبہ جمعہ ۱۶/اکتوبر ۱۹۸۷ء وہ خدا کے ہو چکے ہیں وہ دوسروں پر رحم کیا کرتے تھے۔اس لئے اگر کوئی آپ سے ایسا سلوک کرتا ہے تو آپ ان پر رحم کریں نہ کہ اس کے رد عمل کے نتیجے میں آپ کہیں کہ یہ ہم سے ایسا سلوک کرتا ہے ہم بھی ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔اپنے خدا سے پیچھے ہٹیں گے، اپنی بھلائی سے پیچھے ہٹیں گے۔خود اپنے سے بے وفائی کریں گے۔کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ اسلام آپ کا ہے اور خدا آپ کا ہے۔اگر کوئی باہر سے آنے والا اس خدا اور اسلام سے برگشتہ ہورہا ہے اپنے اخلاق اور اپنی قدروں میں تو آپ کو کیا حق ہے یا کیسی عقل ہے کہ آپ خود برگشتہ ہونے لگیں۔آپ کو یہ احساس پیدا ہونا چاہئے اللہ آپ کا ہو چکا ہے۔آپ کو کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کون کس طرح آپ کو دیکھتا ہے اور یہ عظمت آپ کے اندر پیدا ہوگئی تب آپ اس ملک میں غالب آئیں گے۔مذہبی اقدار چھوڑ دیں ، نفسیاتی لحاظ سے میں آپ کو بتاتا ہوں ایک لازمی حقیقت ہے جسے اگر کوئی قوم بھول جائیگی تو کبھی بھی فلاح نہیں پاسکتی۔وہ تو میں جو احساس کمتری سے آزاد ہو جایا کرتی ہیں جو سیدھی راہ پر چلنا جانتی ہیں قطع نظر اس کے کہ کوئی ان کو دیکھ رہا ہے کہ نہیں دیکھ رہا، کوئی ان کی عزت کر رہا ہے یا نہیں کر رہا۔یہی وہ قومیں ہیں جو انبیاء کی کوک سے جنم لیا کرتی ہیں۔انبیاء یہ تو میں بنایا کرتے ہیں اور اس کے بعد بڑی بڑی قو میں ہلاک ہو جایا کرتی ہیں اور یہ قو میں عظمت پاتی ہیں کیونکہ وہ خدا کے نام سے عظمت پاتی ہیں۔اس لئے آپ خوش نصیب ہیں کیوں نہیں سمجھتے کہ آپ کو ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے کوئی آپ کو سینے سے لگائے یا نہ لگائے۔آپ وہ بنیں جو سینوں سے لگائیں اور احسان کے طور پر لوگوں کو سینوں سے لگائیں کیونکہ خدا نے آپ کو چن لیا رحمت کے لئے اور نعمتوں کیلئے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر احساس کمتری سے ہر احمدی آزاد ہو جائے۔وہ جن کے رنگ نسبتا صاف ہیں اور جن کو خدا نے نسبتاً زیادہ دولتیں عطا کی ہیں ان کا احساس کمتری بھی ان کو ہلاک کر سکتا ہے اور ضرور کر دیگا اگر وہ اس سے باز نہ آئے اور وہ تو میں جو بظاہر دنیا میں کم درجے پر شمار کی گئی ہیں اگر وہ احساس کمتری کا شکار ہوں گی تو ان کو بھی احساس کمتری ہلاک کر دے گا۔آنحضرت ﷺ نے یہ سارے راز ہمیں سکھا دیئے ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا ماہر نفسیات آدم سے لے کر آخری انسان تک جتنے بھی لوگ پیدا ہوئے ان میں سب سے اونچا ماہر نفسیات الله