خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 679

خطبات طاہر جلد ۶ 679 خطبہ جمعہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۷ء حضرت اقدس محمد مصطفی ملے ہیں کیونکہ آپ اللہ کے مزاج شناس تھے خدا نے اپنا مزاج آپ کو بتایا تھا جسنے انسان کی فطرت پیدا کی اور وہی ایک راہ ہے جس سے انسانی فطرت کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔تعصبات سے پاک خالص اللہ کی نظر سے انسان کو دیکھا جائے تو کوئی عارضی پردہ حائل نہیں ہوسکتا انسان۔کے مطالعہ اور فطرت کے درمیان۔اس لئے میں آپ کو بتا رہا ہوں کامل یقین کے ساتھ حکمت کی بنا پر کہ حضرت اقدس محمد مصطفی مالے سے بڑھ کر فطرت کا مطالعہ کرنے والا نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ کبھی آئندہ پیدا ہو سکتا ہے اور آپ نے فرمایا ایک موقع پر کہ خدا کو جولوگ بہت ہی ناپسند ہیں ان میں سے ایک قسم وہ ہے جو غریب اور بے حال ہونے کے باوجود متکبر ہیں۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر : ۱۹۷) یہ احساس کمتری کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے۔وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ ہو یا غریبانہ حالت میں زندگی بسر کرتے ہوں یا تو میں ان کو تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہوں اگر وہ آگے سے تکبر کا اظہار کریں گے تو یہ تکبر احساس کمتری سے پیدا ہوتا ہے کہ اچھا اب ہم ان کو بھی ذلیل دیکھنا شروع کریں گے اور ذلیل کرنا شروع کریں گے فرمایا اللہ ان کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تو بجائے اس کے کہ اس حالت کے نتیجے میں آپ خدا کی محبت کے سودے کریں کیوں خدا کی نفرت اور خدا کے غضب کے سودے کرتے ہیں۔آپ خدا کے ہو گئے تو خدا کی قسم آپ عظیم ہو چکے ہیں کیونکہ خدا سے جو بھی تعلق جوڑ لے وہ عظیم ہو جایا کرتا ہے پھر اس جھوٹے احساس کمتری کا شکار کیوں ہوتے ہیں، کیوں شیطان کو موقع وہ دیتے ہیں کہ آپ کے دل میں یہ خیال پیدا کرے کہ گویاوہ لوگ زیادہ ہیں اور آپ کم ہیں۔اگر یہ آپ جذ بہ پیدا کر لیں اور حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ کی سیرت کا یہ رنگ اپنے اندر داخل کر لیں تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ احمد یہ سوسائٹی میں تفریق پیدا کرنے والا کوئی وجود کا میاب نہیں ہوسکتا۔آج آپ کے اندر منافق بھی ہیں، آج آپ کے اندر بیوقوف بھی ہیں ، احساس کمتری کا شکار جاہل لوگ بھی ہیں اور باہر کی تو میں آپ کے اندرایجنٹ بھی داخل کر رہی ہیں کہ کسی طرح آپ کے اندر تفریق پیدا کر دیں اور شیطان اسی طرح کی تفریقیں پیدا کیا کرتا ہے۔یاد رکھیں کہ مومن کہ اندر کوئی دنیا کی طاقت تفریق پیدا نہیں کر سکتی۔اس لئے ہر وہ شخص خواہ وہ احساس کمتری کے نتیجے میں یا شیطانیت کے نتیجے میں آپ کے اندر ایسی باتیں کرے جس کے نتیجے میں آپ کا اپنے بھائی سے دل بدظن ہورہا ہو جس کے نتیجے میں آپ سمجھیں کہ آپ کی محبت میں کوئی فرق پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں