خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد ۶ 677 خطبہ جمعہ ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء سے عشق تھا۔رنگ بدلے ہوئے ہیں ، کیفیت ہی اور ہو چکی ہے اور لوگ ان کو دیکھتے ہیں ان کو پتا نہیں کہ ان کے بھیس میں کیا وجود پھر رہا ہے۔میں نے ان سے بارہا، مدت سے میں جب واقف ہوں۔ان سے بارہا باتیں کی ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا ان کو جواب دیتا۔ان سے رحمت اور شفقت کا اظہار فرماتا ہے۔آپ کو کیا پتا کہ کتنے کتنے عظیم الشان جو ہر قابل یہاں موجود ہیں اور اگر ہم نے نعوذ باللہ من ذالک ان کی قدر نہ کی تو خدا ہماری قدر نہیں کرے گا۔ہماری ذرہ بھر پرواہ نہیں کرے گا۔اس لئے اپنی کیفیت بدلیں ، اپنے حالات تبدیل کریں اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کا میں ذکر کر رہا ہوں جو احمدیوں کا اپنی حالت بدل کر مجھے بھی بے انتہا پیارے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ خدا کو بہت پیارے ہیں ورنہ مجھے بھی پیارے نہ ہوتے۔ان کو میرا یہ پیغام ہے کہ آپ اسلام سے عظمت کر دار حاصل کریں، استغنا حاصل کریں۔آپ کو بھی اسلام ایک خاص اسلوب زندگی سکھاتا ہے۔اسلام آپ کو بتاتا ہے کہ آپ آزاد ہو گئے ہیں ہر قسم کے Complexes ہر قسم کے احساسات کمتری سے۔جب آپ نے خدا کو پایا یہ سمجھ کر کہ خدا کو پایا تو پھر احساس کمتری کی گنجائش ہی کون سی باقی رہ جاتی ہے۔پھر کیوں آپ حساس ہو جاتے ہیں اس بات پہ کہ فلاں نے مجھے یوں دیکھا اور فلاں نے مجھے یوں نہیں دیکھا۔حضرت نوح کیوں نہیں حساس ہوئے۔حضرت نوح کے ماننے والے غریب کیوں نہ حساس ہوئے۔یہی وہ آیات ہیں جو آپ کو بھی پیغام دے رہی ہیں، آپ سے بھی تو مخاطب ہیں۔ایک خدا کا عظیم الشان بندہ جو خدا کو اتنا پیارا تھا اور اسکے چند ماننے والے اتنے پیارے تھے کہ ان کو باقی رکھنے کے لئے اس علاقے کے ہر دوسرے انسان کو خدا نے ہلاک کر دیا۔اس عظیم الشان وجود کو اور اس کو ماننے والے خدا کے پیاروں کو اس قدر ذلت سے دنیا دیکھتی تھی ، اس قدر ہنسی کا سلوک کرتی تھی ، اس قسم کی تحقیر کے ساتھ ان سے معاملہ کیا جاتا تھا کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب وہ کشتی بنا رہے تھے تو آتے جاتے قوم کے سردار اور دوسرے قہقہے اڑاتے اور مذاق کرتے ، یہ دیکھو جی پاگل کے بچے کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو۔حال یہ ہے کہ روٹی میسر نہیں، حال یہ ہے کہ ہم جس وقت چاہیں انہیں ذلیل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بچائے جائیں گے اور تم لوگ ہلاک ہو جاؤ گے۔ان کے اندر کیوں احساس کمتری پیدا نہیں ہوا۔اس لئے کہ ان کا ایمان سچا تھا۔وہ جانتے تھے کہ