خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد ۶ 635 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء رہے ہوتے خالص طور پر اور وہ نہیں پہچانتے۔اس لئے نہیں کہ ان کی ذات خدا کو غیر معمولی طور پر اچھی لگ رہی ہے اس لئے کہ وہ ایسے نظام کا حصہ بن چکے ہیں جو نظام خدا کو پیارا ہے۔جو رحمتیں اس نظام پر نازل ہوئی ہیں وہ ضرور اس میں سے حصہ پاتے ہیں لیکن یہ ایک پہلی منزل ہے۔میں جس منزل کی طرف آپ کو بلانا چاہتا ہوں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس گردو پیش کا معائنہ کر کے اپنے دل میں شعور بیدار کریں کہ خدا آپ سے پیار کرنا چاہتا ہے اور اس کے دروازے آپ پر کھول دیئے گئے ہیں۔آپ کی آواز کا منتظر ہے آپ کا خدا۔فَلْيَسْتَجِیو الی کی آواز کا آپ جواب دیں۔آپ تیار کریں اپنے نفسوں کو کہ خدا جن راہوں کی طرف آپ کو بلاتا ہے آپ لبیک کہیں گے، جانے کی کوشش کریں گے۔پھر خامیاں رہ جائیں گی، پھر ٹھوکریں کھا ئیں گے تو پھر اس خدا ہی کا ہاتھ ہے جو آپ کو سنبھالے گا۔خدا ہی کے فرشتے ہیں جو آپ کی حفاظت فرمائیں گے لیکن اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر جولوگ آگے بڑھنے سے ڈر جاتے ہیں پھر وہ کبھی بھی کوئی سفر طے نہیں کیا کرتے۔بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عمر میں ضائع کر دیں اور بہت سے قیمتی لمحات کھو دیے صرف اس انکساری کے خیال سے کہ ہم اس قابل کہاں ہیں بہت سے دوست ہیں جو کہتے ہیں ہم احمدی ہونا تو چاہتے ہیں لیکن جی ہم اس لائق نہیں ہیں اس لئے ہم فیصلہ نہیں کر سکتے۔اسی قسم کی ایک مثال میں آپ کو دیتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی اولاد میں سے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب آپ کی اولاد میں سے آپ کو بہت پیارے تھے، پہلی بیگم کی اولاد میں سے تھے اور وہ مسلسل آپ کی صداقت پر ایمان رکھتے تھے ایک لمحہ بھی ان کے دل میں شک کا نہیں گزرا کیونکہ بہت قریب سے اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ جانتے تھے کہ یہ سچا ہے اس کے باوجود بیعت نہیں کی۔ساری زندگی گزاری تائید کرتے رہے، وقت کے اوپر دعاؤں کے لئے درخواست کرتے رہے ہمیشہ جہاں جس مجلس میں بیٹھے وہاں احمدیت کی صداقت کا اعلان کیا لیکن خود محروم رہے۔جب پوچھا گیا کہ کیوں ایسا ہوا ہے تو بتایا کہ اس لئے کہ میں تو اپنے اعمال کی وجہ سے ڈرتا تھا کہ میں اس لائق نہیں ہوں کہ اپنے اس عظیم باپ کے ہاتھ پر بیعت کر سکوں صرف یہی خیال ہے جو ہمیشہ میرے مانع رہا۔پھر ایک وقت آیا کہ اپنا چھوٹا بھائی منصب خلافت پر بیٹھا اور خدا کی تقدیر نے ان کو اس بھائی کی بیعت کرنے پر مجبور کر دیا جو ہا تھ اپنے باپ کی بیعت نہیں کر سکا تھا لیکن کتنا