خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 636
خطبات طاہر جلد ۶ 636 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء عظیم الشان مقام اور کتنا مرتبہ تھا جو پیچھے چھوڑ آئے تھے جسے دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔کون ہے جو کمزوریوں کے بغیر ہے؟ نیکیوں کی انتظار میں یہ شرط لگا دینا کہ پہلے کمزوریاں دور ہو جائیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کچھ بھی انسان کی استطاعت میں نہیں۔خدا تعالیٰ یہ نہیں شرط لگا تا کہ پہلے نیک ہو پھر میرے پاس آؤ خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنا سب کچھ پیش کر دو اور یہی اسلام کی روح ہے جب آپ کہتے ہیں:۔أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرہ:۱۳۲) تو یہ نہیں کہا کرتے کہ میں مکمل طور پر نیک ہو چکا ہوں اس لئے اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دوں۔أَسْلَمْتُ کا تو مطلب ہے کہ جو کچھ میرا ہے میں تجھے دے رہا ہوں اس میں اچھا بھی ہے بُرا بھی ہے۔بُرا زیادہ ہوگا۔میں بہت ناقص اور کمزور ہوں بہت گندہ بھی ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ تیرے سپر داپنے آپ کو کر دوں کہ تجھ سے جیسا محفوظ اور کوئی مقام میں نہیں دیکھتا۔تیرے سپرد کر دوں گا تو تو میری حفاظت فرمائے گا میرے گند دور کرے گا مجھے اچھائیوں کی طرف لے کے آگے بڑھتا چلا جائے گا۔یہ ہے اسلام کی روح اس روح کے ساتھ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے کا فیصلہ کریں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس شان کے ساتھ آپ کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے آپ سے پیار کا اظہار کرتا ہے آپ کا ہو جاتا ہے اور دن بدن آپ کی کمزوریاں دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔چنانچہ اسلام نے یہ شرط نہیں لگائی کہ ایمان سے پہلے کمزوریاں دور کر لو یہ دعا سکھائی، یہ عرض کرو کہ: رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا تُنَادِى لِلْإِيْمَانِ أَنْ أَمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامُنَا اے خدا! ہم نے ایک آواز سنی تھی پکارنے والے کی وہ آواز یہ کہتی تھی کہ یہ آواز رب کی طرف سے ہے، ہمارے رب کی طرف سے۔ہم نے اس آواز کو نا اور اس آواز پر ایمان لے آئے یہ نہیں دیکھا کہ ہم اچھے ہیں کہ برے، یہ انتظار نہیں کیا کہ ہماری کمزوریاں دور ہوں تو پھر اس آواز کی طرف لبیک کہیں:۔رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا اس لئے اس ایمان کی حالت میں ہمارے اندر کمزوریاں باقی ہیں ہم گناہ لے کر آئے ہیں اب تجھ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ اس ایمان کے نتیجے میں اتنا کرم فرما کہ ہمارے پہلے گناہوں کی بخشش فرمادے اور آئندہ ہماری برائیاں دور فرما۔اس سے زیادہ کھلا کھلا اور کیا پیغام ہو سکتا ہے کمزوروں کے لئے کہ تمہاری کمزوریاں دور کرنا میرے پاس آنے کے لئے شرط نہیں ہے۔میرے پاس آنے کے لئے شرط صرف اخلاص ہے، فیصلہ ہے کہ ہاں ہم اپنے