خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد ۶ 633 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء ایک لمحے کے لئے بھی وہاں سے ہاتھ اٹھاتی ہے تو اس وقت ہم نقصان اٹھا جاتے ہیں۔اس لئے جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں تو عمومی طور پر میں نے اس لئے کہا کہ دنیا کے ہر انسان پر اس کا اطلاق ہو رہا ہے۔روحانی دنیا میں سب سے زیادہ اطلاق اس کا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں بندوں پر وحی نازل کرتا ہوں اور خاص پیغام دیتا ہوں تو اس وقت بھی بہت سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔امنیہ دل سے اٹھتی ہے اور دخل دے سکتی ہے اور بہت سے ایسے نظام ہیں شیطانی جوحملہ آور ہو جاتے ہیں اس وقت لیکن خدا اپنے خاص بندوں کی غیر معمولی حفاظت فرماتا ہے۔اس لئے وحی کا نظام جو بالعموم آپ سادہ سا سمجھتے ہیں سطحی نظر سے دیکھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ الہام ہو گیا بات ختم ہو گئی۔ایسی بات نہیں ہے اس کے اندر خطرات کیسے کیسے لاحق ہیں؟ کتنے خطرات درپیش ہیں جو نفسیات کے ماہر ڈاکٹر ہیں وہ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہزار قسم کی ذہنی بیماریاں ہزار قسم کے تصورات پیدا کر دیتی ہیں اور ہزار قسم کی بیماریاں ایسی بھی ہیں جن کے تصورات باہر سے آواز کی صورت میں آتے دکھائی دیتے ہیں اور اپنی ہر خواہش کے وقت انسان کلیہ اندرونی محرکات سے آزاد نہیں ہوتا۔ہر فیصلے کے وقت بے شمار اندرونی محرکات ہیں جو دخل دے رہے ہوتے ہیں۔ان حالات میں جب کسی خاص مقرر کردہ وجود پر خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہو رہی ہوتی ہے تو اس کو بے شمار خطرات درپیش ہوتے ہیں اور یہ تو اندرونی خطرات ہیں وحی کے ساتھ ہی پھر بیرونی خطرات بے شمار پیدا ہو جاتے ہیں۔ہر طرف سے دشمنی ہے، ہر طرف سے اس کے پیغام کو بدلنے کی کوشش ہے، ہر طرف سے اس کے ماننے والوں کو مایوس کرنے کی کوشش ہے، ہر طرف سے یہ کوشش ہے کہ یا تو وہ اپنے مقصد سے ہٹ جائیں یا صفحہ ہستی سے مٹادئے جائیں۔بے انتہا شیطانی طاقتیں بیرونی طور پر بھی حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ایسی صورت میں کسی نبی کا اپنے پیغام کے ساتھ زندہ رہ جانا اور خود باقی رہنا اور پیغام کو باقی رکھنا ان سب کی حفاظت کرنا جو اس کے پیغام پر لبیک کہتے ہوئے اس کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں کسی انسان کے بس کی بات نہیں يَحْفَظُونَهُ مِنْ اَمرِ اللہ ایسے فرشتے مقرر ہو جاتے ہیں جو محمد مصطفی امیہ کی حفاظت کے لئے خاص طور پر مامور ہوتے ہیں اور مامور ہو کر پھر ان کی حفاظت پھیل جاتی ہے باقی مسلمانوں پر۔یہ واقعہ جو ہوا ہے مکہ میں اس کی طرف بالخصوص یہ آیت اشارہ کر رہی ہے اور یہی واقعہ