خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد ۶ 631 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء آپ اپنے فیصلے پر قائم نہ رہ سکیں ، آپ نیت رکھتے ہوئے بھی بارہا اپنے اس عہد پر پورے نہ اتر سکیں بار ہا ایسا ہو کہ خدا ایک بات چاہتا ہے لیکن جسمانی بشری کمزوریاں اور بہت سے لواحق جو انسان کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں گناہوں کے گھیرے آپ کو اس عہد کو پورا کرنے سے مانع رکھیں پوری طرح جیسا کہ حق ہے ویسے آپ عہد پورا نہ کرسکیں یہ ممکن ہے لیکن اس کے باوجود خدا اپنا عہد پورا کرتا چلا جائیگا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو کسی بندے سے اس کا تعلق قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ کامل ہے اور ہم نا کامل ہیں اور ہم کمزور ہیں لیکن دل کی نیت کی صفائی ضروری ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (الاعراف: ۳۰) یہ جو شرط ہے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ساتھ سارا تعلق وابستہ ہے۔اگر خدا کو پکاریں گے اخلاص کے ساتھ اور اس کی خاطر ایک فیصلہ اخلاص کے ساتھ کریں گے تو پھر آپ کا اور خدا کا تعلق ایک ایسا تعلق ہو گا جس کے متعلق کسی دوسرے بندے کو فکر کی ضرورت نہیں رہتی۔پھر نظام جماعت کی آنکھ آپ پر ہو یا نہ ہو، خواہ کوئی خدام الاحمدیہ کا یا انصار اللہ کا عہد یدار آپ کی فکر کرے یا نہ کرے آپ کے اندر سے وہ ضمیر بیدار ہو چکا ہو گا جو ہر آن خدا کی رہنمائی میں آپ کی فکر کر رہا ہو گا۔جس حال میں ہوں تاریکی میں ہوں یا روشنی میں ہوں ، دن کا وقت ہو یا رات کا وقت ہو خدا تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کرنے والے آپ پر مقرر ہو جائیں گے اور یہی وہ معاملہ ہے جوسب سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے ہوا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں عموماً اس بات کا ذکر فرماتا ہے لیکن فی الحقیقت اول طور پر یہاں حضرت اقدس محمد مصطفی مے ہیں۔جب خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔اللهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْ ءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَا مِنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفِ بِالَّيْلِ وَسَارِبُ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّبَتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ (الرعد: آیت ۹-۱۲) بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تمہارے مخفی کو بھی جانتا ہے تمہارے ظاہر کو بھی جانتا ہے۔اس