خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 613
خطبات طاہر جلد ۶ 613 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء تمہارے سینے میں داخل کر رہا ہوں جو اصل مقصد تھا اس تیر کے چلانے کا۔پس بعض لوگ تیر چلاتے ہیں بعض ان تیروں کو ان جگہوں تک پہنچاتے ہیں جہاں نہیں پہنچانا چاہئے۔بعض شرارت کرتے ہیں، بعض شرارت کا آلہ کار ہو جاتے ہیں اور غیبت کا اس مضمون سے بھی بڑا تعلق ہے جو پہلی دو آیات میں بیان ہوا کیونکہ یہ جو بیماری ہے باتیں کرنے کی اس کا غیبت سے بڑا برا ہ راست سے گہرا تعلق ہے۔باتیں کرنے والے باتوں کا چسکا لیتے ہیں اور جن کو باتیں کرنے کا چسکا پڑے کہ افواہیں مشہور ہو رہی ہیں کہ جی وہاں تو یہ بات ہورہی ہے وہاں یہ بات ہو رہی ہے، یہ یہ باتیں ہمیں پہنچی ہیں ہم تمہیں بتاتے ہیں۔اس کے کئی قسم کے محرکات ہیں ایک تو سب سے سادہ سب سے پہلا محرک تو یہ ہے کہ ہر شخص کو صاحب علم بنے کا شوق ہے۔یہ ظاہر کرنے کا شوق ہے کہ مجھے اس سے زیادہ پتا ہے جو تمہیں پتا ہے یہ خبر کسی کو نہیں پتا مجھے پتا لگی ہے۔اس لئے جو بھی نئی خبر کسی کو سوسائٹی میں سناتا ہے وہ اس بات کا لطف لے رہا ہوتا ہے کہ میں تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔چنانچہ اس قسم کے لوگ پھر آگے کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔باتیں کر کر کے مبالغے کی عادت پڑتی ہے کیونکہ خبر اگر سننے والوں کے دل میں کوئی تحریک پیدا نہ کرے، کوئی ارتعاش پیدا نہ کرے تو بعض دفعہ خبر سنانے والا شرمندہ ہو جاتا ہے۔کوئی خبر سناتا ہے کہ اچھا اچھا یہی اتنی سی بات تھی کیا فرق پڑتا تھا پھر یہ کونسی کونسی سنانے والی بات ہے۔تو جس کو عادت ہے اس قسم کا مزہ لینے کی وہ پھر اس میں مبالغہ شامل کرتا ہے۔وہ کہتا ہے نہیں نہیں یہ اس طرح ہوا تھا واقعہ اور اس معمولی سے چسکے کے نتیجے میں ایک اور برائی جنم لینے لگتی ہے اور پھر مبالغہ میں ایک دوسرے سے مقابلے شروع ہو جاتے ہیں ایسے ایسے عجیب مبالغے بن جاتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ان خبروں کو سن کے مگر جن سوسائٹیوں کو ان گپوں کی عادت پڑ جائے وہ پھر سننے والے بھی چسکے سے سن رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ بعض ہمارے علم میں ہیں ایسے لوگ بھی جو مشہور تھے کہیں مارنے میں ان کی ساری عمر گزرگئی اس قسم کی گتیں سنانے میں اور بعض لوگ جو ان کی مجلسوں کے عادی تھے وہ اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ اس بات میں ضائع کر بیٹھے کہ ان کی گنتیں سننے کے لئے ان کی مجالس میں جاتے تھے۔پتا تھا گئیں مارتے ہیں، پتا تھا جھوٹ ہے لیکن ایک جھوٹ سنانے کا عادی ایک جھوٹ سننے کا عادی بن گیا۔