خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد ۶ 612 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء ایک گہرا تعلق ہے۔قرآن کریم ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ بے خیالی میں بغیر کسی بالا رادہ شرارت کے اگر تم باتیں کرتے ہوتے تو ذمہ داری سے مبر اقرار نہیں دئے جاسکتے کیونکہ اسی سوسائٹی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اراداہ شرارت کے ساتھ بعض باتیں پھیلاتے ہیں۔تم ان کا ذریعہ بن جاتے ہو، ان کا میڈیم (Medium) ہو جاتے ہو۔تمہارے ذریعے باوجود اس کے کہ تم آغاز میں شر میں شامل نہیں تھے، تمہارے ذریعے وہ شر دوسروں میں پھیلتا ہے اور اس لحاظ سے تم الزام کے نیچے آجاتے ہو۔اس لئے تمہیں اس عادت کو چھوڑنا پڑے گا۔یہ عادت مجرمانہ عادت ہے جو شر کو پھیلانے کا موجب بنتی ہے۔بعینہ اسی قسم کا تعلق ایک اور بیماری کا بھی بعض لوگوں سے ہے اور اس بیماری کا پھر اس سے بڑا گہرا تعلق ہے وہ ہے غیبت کی بیماری۔چنانچہ قرآن کریم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اثْم وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا اَ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ + ( الحجرات: ۱۳) اس میں فرمایا کہ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا تم میں سے بعض بعض دوسرے کی غیبت نہ کیا کریں۔کسی میں برائی دیکھتے ہیں تو ان کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں کسی بے تعلق شخص سے اس برائی کا ذکر کریں۔چنانچہ اس مضمون کو آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے اس کی ایک ایسی مثال دی جس سے وہ تعلق کھل کر سامنے آجاتا ہے جو ان دونوں آیات کے درمیان ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی تھیں۔فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کی غیبت کرتا ہے اور وہ غیبت اس تک نہیں پہنچتی جس کی کی جارہی ہے۔کوئی شخص اس برائی کی بات اس تک پہنچاتا ہے جس کے متعلق کی جا رہی ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کسی نے تیر مارا ہوکسی کی طرف اور اس کو لگا نہ ہو اس کے پاؤں کے نیچے قدموں میں آکے گر گیا ہو کوئی شخص اس تیر کو اٹھائے اور اس کے سینے میں گھونپ دے کہ یہ تو تمہارے سینے کے اوپر چلایا گیا تھا پہنچا نہیں میرا تو کوئی قصور نہیں میں تو نیچے سے اٹھا کر