خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 614 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 614

خطبات طاہر جلد ۶ 614 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء دوسرے وہ لوگ ہیں جن کے اندرحسد کا مادہ پایا جاتا ہے وہ اس بیماری کا اکثر شکار ہو جاتے ہیں۔ان کو سوسائٹی میں کچھ لوگ اچھے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے کئی قسم کی نعمتوں یا انتظامی برتری سے نوازا ہوتا ہے اور کچھ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم تو ان چیزوں سے محروم ہیں وہ خود تو کچھ حاصل کر نہیں سکتے ان کی ٹانگ کھینچ کے ان کو نیچے گرا کر نسبتا اپنے قریب لے آتے ہیں یعنی اس کا نفسیاتی پس منظر یہی ہے کہ فاصلے کم ہوں، اونچے اور نیچے کے درمیان جو فا صلے ہیں ان میں کچھ تھوڑی سی کمی آجائے تو ایک اچھے آدمی کے متعلق کہیں گے وہ تو بہت برا آدمی ہے۔ایک نیک آدمی کے متعلق کہیں گے تمہیں نہیں پتہ یہ یہ برائیاں وہ کرتا ہے ، ایک ایسا منتظم جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ عدل اور انصاف سے کام کرنے والا ہے اس کے متعلق کہیں گے تمہیں نہیں پتہ اس نے کتنی بڑی کاررکھی ہوئی ہے جماعت کی اور کیا ضرورت تھی اتنی بڑی کار کی ، اتنا خرچ اس نے کیا،فرسٹ کلاس میں چلا گیا اس کو کیا ضرورت تھی فرسٹ کلاس میں جانے کی۔غرضیکہ کوئی نہ کوئی ایسا عذر وہ تلاش کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں جس شخص کی نیک شہرت ہے اس کی شہرت بد ہو اور لوگ یہ محسوس کریں کہ یہ ہم جیسا ہی ہے ایک۔کوئی خاص ایسا آدمی نہیں وہ جو سمجھا جاتا تھا کہ بڑا فرق ہے ہم میں اور اس میں ایسی بات کوئی نہیں ہے اور ساتھ پھر اس کے خبر کا چسکا بھی پڑ جاتا ہے، پھر انتقام کا جذ بہ بھی پورا ہوتا ہے۔جس شخص کو اپنے سے اچھا دیکھتے ہیں اس کو چوٹ لگا کر دل تھوڑی سی تسکین پاتا ہے اور ان کے اردگرد پھر وہ لوگ اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے ہیں جن کو ایسے لوگوں سے کسی قسم کا کوئی انتظامی شکوہ ہو، کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچی ہو اور گروہ بننا شروع ہو جاتا ہے پھر ان کے ارد گرد سادہ نو جوان جن کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا نہیں ہورہا کیونکہ عادت پڑی ہوتی ہے مجلسوں میں بیٹھنے کی اور باتیں سننے کی اور صحیح تربیت نہیں ہوتی جو اسلامی تربیت ہے ان آیات میں جس کا بیان ہے۔عدم تربیت کے نتیجے میں وہ اپنا کوئی قصور ہی نہیں سمجھ رہے ہوتے ، وہ کہتے ہیں ہم تو بیٹھے ہیں یہ سنا رہے ہیں لیکن آہستہ آہستہ پھر دلوں میں زنگ لگ جاتا ہے۔تو یہ ساری بیماریاں جس جس طرح سے پنپتی ہیں؟ کہاں کہاں پرورش پاتی ہیں؟ کن حالات میں پرورش پاتی ہیں؟ قرآن کریم میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں اور صرف یہ تین آیات نہیں متعدد آیات ہیں جن میں اس بیماری کے ہر پہلو کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔