خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد ۶ 608 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء لوگ شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے۔دنیا میں جتنی بھی بیماریاں ہم دیکھتے ہیں یا نہیں دیکھتے، موجود پاتے ہیں یا نہیں موجود پاتے۔بنیادی طور پر خواہ ہمارے علم میں ہوں یا نہ ہوں، ہر قسم کی بیماریوں کے بیج دنیا میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔کچھ جراثیم کی صورت میں کچھ دیگر اسباب اور محرکات کی صورت میں اور بیماری کے اسباب موجود ہونے کا نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ ہر وقت وہ بیماری ہر انسان کو لاحق ہو۔جس فضا میں ہم سانس لے رہے ہوتے ہیں بسا اوقات اسی فضا میں کوڑھ کے جراثیم بھی ہوتے ہیں سل کے جراثیم بھی ہوتے ہیں، نزلے زکام اور فلو کے جراثیم بھی ہوتے ہیں اور کئی قسم کے ایسی امراض کے پیج کے موجود ہوتے ہیں جن کے تصور سے بھی ہم خوف کھاتے ہیں۔اگر ہمیں معلوم ہو کہ وہ سانس جو ہم لے رہے ہیں ان میں کتنے جراثیم ہیں اور کس کس نوعیت کے ہیں تو خوف سے کمزور دل آدمیوں کی زندگی اجیرن ہو جائے ، ہر سانس پر ان کو دھڑکا لگ جائے۔وہ پانی جو ہم پیتے ہیں اگر اس کے اندر موجود مختلف قسم کے جراثیم کا ہمیں علم ہو جائے تو ہر گھونٹ تشفی کی بجائے ایک خوف کی آگ لگا دے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے کہ اگر چہ خطرات کے مواقع ہر جگہ موجود ہیں اور ہر طرف سے انسان کو گھیرے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان سب بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے۔ہاں ہم میں سے جو کمزور ہیں وہ قلیل تعداد ان بیماریوں کا شکار ہو بھی جاتی ہے۔جیسے دنیا میں یہ نقشہ ہے ویسا ہی روحانی اور مذہبی دنیا میں بھی ہمیں یہ نقشہ نظر آتا ہے۔بیماری کے پھیلنے کے لئے محض جراثیم کا ہونا کافی نہیں ہے۔جراثیم تو ہمیشہ موجود ہی رہتے ہیں اور بھی کئی ایسے عناصر ہیں جن کی ضرورت پڑتی ہے اور جب وہ سب اکٹھے ہو جائیں تو عام معمولی دکھائی دینے والی بیماریاں بھی نہایت خوفناک قسم کی وبائی صورتیں اختیار کر جاتی ہیں۔پیچش سے لوگ مرنے لگتے ہیں ، نزلوں سے لوگ مرنے لگتے ہیں، اسہال عام دنیا میں ہوتے رہتے ہیں لیکن جب یہ وبا کی شکل میں پھیلتی ہے بیماری تو نہایت ہی خوفناک صورتیں اختیار کر جاتی ہے۔تو فضا کا ہونا بھی ضروری ہے۔موسم گرمی اور سردی، خشکی اور تری یہ ساری چیزیں اس میں ایک کردار ادا کرتی ہیں۔پھر ہر انسان کا اپنا رد عمل ، اس کے اندر جو خدا تعالیٰ نے مخفی توانائی رکھی ہے اس کی کیفیت ، اس کی اس وقت کی حالت کیا ہے جس وقت وہ بیماری پنپ رہی ہے۔یہ سارے امور