خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 595
خطبات طاہر جلد ۶ 595 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء زندگی میں اور مذہبی زندگی میں ہم جتنی محنت کرتے ہیں اس سے کئی گناہ زیادہ اجر پاتے ہیں اس لئے وہ کی گناہ زیادہ اجر پانا اور محدود محنت کا لامتناہی پھل ملنا یہ سارا فضل سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔بہر حال اس تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا۔میں متوجہ یہ کرنا چاہتا ہوں کے اگر جماعت احمدیہ میں سے کسی کو یا بعض کو یہ خیال ہو کہ یہ ابتلا کا دور لمبا ہورہا ہے یا ایک جگہ کی بجائے دوسری جگہ بھی ابتلا شروع ہو گئے تو اس کے نتیجے میں خوف نہیں اس کے دل میں پیدا ہونا چاہئے ، مایوسی پیدا نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ایسے ابتلا ساری مذہبی تاریخ گواہ ہے کہ مزید بلندتر منازل کی طرف لے جانے والے ہوا کرتے ہیں۔لامذہب قوموں کے ابتلا بعض دفعہ ان کو ہلاک کر دیتے ہیں لیکن باخداند ہی قوموں کے ابتلا ان کو کبھی ہلاک نہیں کیا کرتے لازما بلا استثناء ہمیشہ ہر ابتلا کے بعد وہ نئی قوت، نئی شان، نئی زندگی کے ساتھ باہر نکلتے ہیں۔پس اس لئے ابتلا پر نظر کریں اور ان کے مقابلے کی کوشش کریں لیکن مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ابھی پاکستان میں جو سلسلہ جاری ہے وہ تو جاری ہی ہے لیکن اب بنگلہ دیش کی طرف بھی بعض بیرونی ملانوں نے اور بعض بیرونی حکومتوں نے رخ کیا ہے اور بعض ایسے علاقے جہاں احمدیت سب سے پہلے ظاہر ہوئی تھی اور احمدیت کے لئے وہاں بنیاد بنے وہ آج کل ان کی شرارت کی توجہ کا مرکز ہیں۔برہمن بڑیا اور اس کی گرد ماحول میں جماعتوں کا ایک گچھا ہے جو بڑی دیر سے قائم ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور ان برہمن بڑیا سے فساد شروع کر کے اب ان مولویوں نے ان فسادات کو دیہات میں پہنچا دیا ہے اور بعض جگہ شدید مظالم کئے ہیں بعض نوجوانوں کو بھی ، بوڑھوں کو بھی اتنا مارا گیا کہ گویا وہ یعنی موت کے کنارے پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا بعض ایسی حالت میں ملے بعض دوسروں کو کہد در جس طرح کوئی سسک سسک کے دم تو ڑ رہا ہوا یسی حالت تھی اور خدا تعالیٰ نے فضل کیا وقت پر پھر ان کو ہسپتال بھی پہنچانے کا انتظام بھی ہو گیا اور بعض ابھی ہسپتالوں میں ہیں بعض ہسپتالوں سے فارغ ہو چکے ہیں لیکن ان پر جود باؤ ہے وہ یہ ہے کہ ہم تمہیں مار مار کے ہلاک کر دیں گے جب تک تم مرتد نہ ہو اور وہاں خصوصیت کے ساتھ رخ ارتداد کی طرف ہے۔پاکستان میں جو حالات ہیں ان میں اور ان حالات میں ایک فرق ہے۔پاکستان میں کلمہ پڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب تک تم کلے سے بعض نہیں آؤ گئے اس وقت تک ہم تمہیں مارتے