خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد ۶ 594 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء اگر غیر معمولی شامل حال نہ ہو تو وہ اپنی ذمہ داری کو نباہ نہ سکیں۔یہی وجہ ہے کہ نہایت پاکیزہ زندگی کے باوجود جو بظاہر عمر ہونی چاہئے اس سے پہلے بعض دفعہ وفات ہوتی دکھائی دیتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے ذمہ داری سے پہلے کے چالیس سال جس طرح پاکیزگی سے گزرے اور اس کے بعد جس طرح پاکیزگی سے ساری زندگی گزری اس میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر بہت لمبی ہونی چاہئے اور پھر غذا میں بھی بہت ہی زیادہ سادگی اس حد تک کہ کسی قسم کی مضر غذا کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔پھر زیادہ کھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن کم کھا کر اپنے آپ کو ایک ایسی زندگی کی عادت ڈال لینا انبیاء کا شیوا ہوا کرتا ہے کہ جس کے نتیجے میں ان کے جسم میں کوئی بھی زائد بوجھ نہیں رہتا ایک چربی کا قطرہ بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کے جسم پر زائد بوجھ ہے۔ان حالات میں بعض انبیاء کی عمر میں بڑی لمبی بھی گزری ہیں لیکن جو سب سے عظیم الشان نبی دنیا میں پیدا ہوا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی امی نے آپ کی عمر ایک پہلو سے ساڑھے باسٹھ سال بنتی ہے یعنی سورج کے سالوں سے حساب کیا جائے تو ساٹھ سال بنتی ہے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ کے او پر بے انتہا ذہنی بوجھ تھے اتنے غیر معمولی عصابی تناؤ تھے کہ عبادت کے ذریعے وہ حل ہوتے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود صحت کے لئے سب سے زیادہ مصر کردار اگر کسی چیز نے ادا کیا ہے تو آپ کی ذمہ داریوں نے ادا کیا ہے۔پس اس پہلو سے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی کو Retirement کا حق ہے تو انبیاء کو Retirement کا حق ہے لیکن آخری سانس تک آخری ہوش کے لمحے تک انبیاء اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں بلکہ بوجھ ان کے بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے۔حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے حالات پر غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے۔پس اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مذہبی دنیا میں ترقیات زندگی کے آخری سانس تک ہمارے لئے مقدر ہیں اور کوئی ترقی ایسی نہیں جو مفت میں حاصل ہو سکے۔ہر ترقی کے لئے کچھ محنت کرنی پڑتی ہے، ہر ترقی کے لئے کچھ صرف کرنا ہوگا۔یہ وہ ایک Scientific اصول ہے جس میں کوئی آپ استثناء نہیں دیکھیں گے۔اگر فضل کا مضمون کسی کے ذہن میں آئے کہ وہ کیا چیز ہے؟ تو جو ترقی ملتی ہے وہ فضل سے ملتی ہے۔محنت کے ساتھ اس قسم کی اس کو مناسبت نہیں ہے جیسے دنیاوی محنت میں عمل اور جزا کی ایک مناسبت ہوا کرتی ہے بلکہ روحانی