خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد ۶ 596 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۷ء رہیں گے۔وہاں وہ اپنی جہالت میں شاید یہ سمجھتے ہیں کے ہم کلمہ نہیں پڑھتے ، وہ کلمہ پڑھانے کے لئے مارتے ہیں اور جب کلمہ پڑھ کے سناتے ہیں احمدی تو کہتے ہیں کہ نہیں اس کے ساتھ مسیح موعود علیہ السلام کا انکار بھی کر ولیکن میرے علم میں بنگلہ دیش میں کوئی ایسا واقعہ نہیں آیا کہ کوئی احمدی کلمہ پڑھتا ہواس کے نتیجے میں اس کو سزا ملی ہو۔دراصل تو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار کروانے کے لئے یہ سارے مظالم توڑے جارہے ہیں اور ایک آدھ جگہ ارتداد کی خبریں بھی ملی ہیں مثلاً برہمن بریا میں ایک دو ایسے اشخاص کے متعلق ارتداد کی ملی جو مظالم زیادہ برداشت نہیں کر سکے لیکن اس کے باوجود خوش کن پہلو یہ ہے کہ ان کے بیوی اور بچوں کے خطوط مجھے آنے شروع ہوئے اور انہوں نے اپنے خاوند سے یا اپنے باپ سے بیزاری کا اظہار کیا اور استغفار کے متعلق بتایا کہ مسلسل استغفار کر رہے ہیں آپ بھی ہمارے لئے دعا کریں۔ہم تو یہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ اس کا مقدرا گر خراب ہوا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذلیل انجام سے بچائے اور جان بھی جائے تو تب بھی ہمارا ایمان سلامت رہے۔اس قسم کے خط ملتے ہیں ان کی طرف سے۔تو ارتداد ہے اگر تو بہت تھوڑا اور ایسا نہیں ہے کہ خاندان کے خاندان الگ ہوجائیں۔دوسرے مرتدوں کے متعلق جو چند ہیں گنتی کے ان کے متعلق وہاں کی جماعت کی اطلاع یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو پہلے ہی نہ صرف یہ کہ جماعتی تعلق میں بہت کمزور تھے بلکہ بعض گندے کاروبار میں مصروف تھے۔ایسے کاروبار تھے ان کے اور معاملات میں ایسے گندے تھے کہ ان کی وجہ سے جماعت پر داغ تھے۔اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک لحاظ سے تو فرق نہیں پڑتا لیکن جب دشمن سے مقابلہ ہورہا ہوصف آرائی ہو اسی مضمون پر کہ ایمان سلامت رہتا ہے کہ نہیں رہتا ہے۔اس وقت کمزور بھیجائے تو داغ ضرور پڑتا ہے اور تکلیف ضرور ہوتی ہے۔اگر وہ ایسے تھے تو ان کو وقت کے او پر سنبھالنا چاہئے تھا ، اگر ایسے تھے تو اس وقت ان کو کوشش کر لی چاہئے تھی واپس لانے کی۔عدم توجہ کے نتیجہ میں اگر بیمار عضو بھی کاٹنا پڑے تو اس پر یہ کہ کرتسلی کا اظہار کرنا کہ بیمار تھا کاٹا گیا یہ تو بڑی بیوقوفی ہے۔بیمار تو تھا لیکن کاٹنے کی نوبت کیوں آئی اور اگر سب کوششیں کرلیں گئیں اور اس کے با وجود ایسا ہوا جیسے بعض دفعہ ہوا کرتا ہے انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔بعض بد نصیب ہیں جنہوں نے بدنصیب ہی رہنا ہے تو پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری طرف سے پوری کوشش ہوئی لیکن یہ بیچ