خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 583
خطبات طاہر جلد ۶ 583 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۸۷ء ہیں، قوموں کے رجحان پیدا ہو رہے ہیں اور پہلے سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔عربوں کے متعلق میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اللہ کے فضل سے رجحان بہت نمایاں ہے لیکن اب میں نے سفر میں دیکھا ہے کہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔گزشتہ سال میں جن جگہوں میں جا کر میں نے عرب نواحمدیوں کو دیکھا ان کی تعداد میں اضافہ، ان کی کیفیت، ان کے اخلاص میں اضافہ بعض تو یوں لگتا تھا جیسے صدیوں سے وہ خاندان احمدیت ہی میں پیدا ہوئے ، احمدیت کی جھولی میں بلند ہوئے۔حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں اور غیر معمولی اس قوم میں نیکی کے لئے قربانی دینے کا جذبہ ہے۔خدا کا انتخاب غلط نہیں ہوسکتا۔خدا نے آقا عربوں میں پیدا کیا تھا، غلام پنجابیوں میں پیدا کا ہے اور یہ نسبت رہے گی آپ کو۔وہ عرب جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں وہ دنیا کی ہر قوم سے بلند ہو جاتے ہیں اور جو دوسری قومیں عمل کرتی ہیں وہ بھی بلند ہو جاتی ہیں لیکن انفرادی طور پر۔یہ ممکن ہے کہ ایک عجمی انفرادی طور پر ایک عرب سے بہت آگے نکل جائے لیکن آنحضرت ﷺ کو عطا کردہ تعلیم پر عمل کے نتیجے میں لیکن جب ہم قومی بات کرتے ہیں تو بالعموم بات کر رہے ہوتے ہیں۔تبھی خدا تعالیٰ نے جو اول درجے کے انعامات تھے قرآن کریم میں ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعہ: ۱۴-۱۵) جو پہلے ہیں ان میں جوق در جوق لوگ شامل ہیں جو اس مقام تک پہنچ گئے۔آخرین میں بھی پہنچنے والے ہیں لیکن اس اول مقام تک پہنچنے والے کم ہیں نسبتا۔یہ تفریق جو خدا تعالیٰ نے رکھی ہے یہ مطلب ہے اس کا ، یہ مطلب نہیں کے عربوں کے سوا کوئی بلند مقام کو حاصل نہیں کر سکتا۔مراد یہ ہے کہ اس قوم کو ہم نے اس لئے چنا ہے کہ اس میں بالعموم قربانیوں کا ولولہ ہے، قربانیوں کی استطاعت ہے اور فدا ہو جانا جانتے ہیں یہ۔جب ایک دفعہ ایک بات کو سمجھ جائیں پھر اس کو قبول کرتے ہیں من وعن اور اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔یہ جذبہ میں نے دیکھا ہے کہ عرب نئے آنے والے بہت سے پرانے احمدیوں سے آگے بڑھ گئے ہیں اور ان کے علاوہ باہر سے نئے عربوں کو بھی انہوں نے اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور ان میں اعلیٰ درجے کے صحافی بھی شامل ہیں، بڑے اچھے تعلیم یافتہ لوگ ، بعض اور اپنے انسانی خواص میں امتیاز حاصل کرنے