خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد ۶ 584 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۸۷ء والے، صلاحیتوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی عطا کردہ صلاحیتوں والے لوگ یہ احمد بیت میں داخل ہورہے ہیں اور توجہ بھی کر رہے ہیں۔چنانچہ ایسا ایک صحافی نوجوان ابھی کچھ عرصہ پہلے احمدی ہوا جس کا اثر اپنے صحافی حلقے میں اتنا نمایاں ہے کہ اس نے مضمون لکھنے شروع کئے عراق وغیرہ اور دوسری جگہوں پر اور اس سے ایک نمایاں شور پیدا ہو گیا کہ یہ کیا ہورہا ہے، احمدیت کے حق میں ایک عرب صحافی مضمون لکھ رہا ہے۔ایک اخبار جو شدت سے احمدیت کے خلاف ہمیشہ کچھ نہ کچھ کھتارہتا تھا، اس اخبار نے اس سے تعلق قائم کیا اور اس کو کہا کہ تم ہمارے لئے کوئی کالم لکھا کرو۔اس نے کہا کالم تو میں لکھ دوں گا لیکن شرط یہ ہے کہ احمدیت کی مخالفت ترک کر دو، جس رسالے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جا رہی ہیں اس میں میرا مضمون شائع نہیں ہوگا۔اس نے وعدہ کیا اور جب میں پہنچا ہوں اس عرصے تک اس کے وعدے سے لے کر کوئی پھر اور مضمون شائع نہیں ہوا۔تو اتنا ان میں جذبہ بھی ہے، اتنی قابلیت بھی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور بعض ایسے صحافی عرب تھے دوسرے ممالک کے جنہوں نے بڑا شکوہ کیا کہ یہ احمدیت تھی تو آپ نے ہم سے چھپا کر کیوں رکھی ہوئی تھی۔ہم تو دھوکے میں رہے، ہم تو صحراؤں میں بھٹکتے رہے ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ احمدیت کیا چیز ہے یہ تو عظیم نعمت ہے اور آپ نے ہمیں بتایا ہی نہیں۔میں نے ان کو بتایا کچھ ہمارا بھی قصور ہو گا لیکن کچھ آپ لوگوں کا بھی قصور ہے یک طرفہ جھوٹی باتیں پھیلائے چلے جارہے ہیں۔ہمارا لٹریچر جب پہنچے تو اس کو ضبط کر لیتے ہیں ہم کریں کیا؟ ہمیں آواز دینے کی اجازت نہیں ہے اور مخالفوں کو جھوٹ کھلم کھلا سر منبر بیان کرنے کی اجازت ہے بلکہ تحریک کی جاتی ہے بلکہ اس کے پیسے ملتے ہیں۔خلاف گند لکھنے پر کروڑوں روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے تو یہ مجبوریاں بھی ہیں۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں سمجھتا ہوں مجبوریاں بھی تھیں لیکن ہمیں اب خاموش نہیں بیٹھنا ہے جو میری استطاعت میں ہے جتنے میرے دوست ہیں صحافی یا دیگر صاحب علم لوگ میں اپنے آپ کو آج سے وقف کرتا ہوں کہ ان کو ہمیشہ احمدیت کا پیغام جس طرح بھی ہو سکے دیتا چلا جاؤں گا۔تو ایسی قومیں ہیں مگر بعض ممالک میں ان کی طرف توجہ ہے عربوں کی طرف بعض میں نہیں حالانکہ میں بار بار توجہ دلا چکا ہوں کہ یہ ایک بڑا قیمتی گروہ ہے اس کو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہئے