خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 582

خطبات طاہر جلد ۶ 582 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۸۷ء بھولیں نہ اور باشعور قوموں کی طرح ان کی طرف Methodically ایک طریق کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور اگر بار بار اس طرح ان کو یاد دہانی ہوتی رہے اور وہ بیٹھیں اور غور کریں تو ہر غور کے نتیجے میں جماعت کا قدم آگے بڑھے گا۔انسان بعض دفعہ غور کے نتیجے میں Excite ہونے لگتا ہے اور Excitement کے نتیجے میں پھر قوت پیدا ہوتی ہے۔ایک مردہ دل انسان یا ایک مردہ دل جماعت تو کسی پہلو سے بھی خواہ وہ سب نیکی کے طریق جانتی ہو کسی پہلو سے بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔وہ جو طبعی جوش ہے وہ Excitement سے پیدا ہوتا ہے۔فکر ونظر کے لئے بھی Excitement ضروری ہے۔آپ عام حالات میں بیٹھے ہوئے ہیں شعر و شاعری کی طرف توجہ ہی کوئی نہیں۔کوئی اچھا شعر کہنے والا آپ کے پاس آجاتا ہے یا کوئی اچھے شعر یا د رکھنے والا آ جاتا ہے وہ ذکر چھیڑتا ہے ایک اچھا شعر پڑھتا ہے آپ کے دل میں ایک اور اچھا شعر پیدا ہو جاتا ہے خواہ شعریت کے نتیجے میں پیدا ہو یا کسی کا شعر یاد آ کر اور اس طرح بات بڑھتے بڑھتے آپ کا جو شعر کی طرف رجحان ہے وہ بہت ہی بلندی اختیار کر جاتا ہے۔تو معاملات کو مجالس عاملہ میں رکھنے سے ہر ذہن Excite ہو جاتا ہے۔وہ متحرک ہوکر پھر جماعت کے متعلق اچھی باتیں سوچتا ہے اور ان سب کے دل میں ایک ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔تو اس لئے جو پروگرام مجالس عاملہ کے سپرد ہیں وہ مجالس عاملہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے چاہئیں۔مشکل ایک اور بھی میں نے دیکھی ہے کہ مجالس عاملہ پر بعض لوگ انحصار نہیں کرتے حالانکہ وہ امیر ہی نہیں ہے جس سے اس نے امارت حاصل کی ہے اس کے احکام کو نظر انداز کر رہا ہے۔وہ امیر کیا ہوا؟ وہ تو امیر ہے ہی اس لئے کہ اس کو کسی نے امیر بنایا ہے۔اگر وہ امیر بنانے والے کی ایسی ہدایات کو جو اس کے پاس امانت ہیں ان کی طرف بحیثیت امانت اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ امیر ہی نہیں ہے عملا۔اس لئے آخری بات پھر امیر پر آئے گی۔امیر کو چاہئے وہ ذمہ دار ہے اور مجلس عاملہ کا ہر فرد ویسے بھی ذمہ دار ہے کیونکہ ساری مجلس عاملہ مخاطب ہے لیکن اول درجے کی ذمہ داری امیر پر عائد ہوتی ہے۔ان باتوں پر غور کرتے رہا کریں دیکھتے رہیں اور جہاں جہاں بھی کو ئی نقص پیدا ہورہا ہے یعنی ہدایات کے عمل نہ کرنے کی حیثیت سے میں کہہ رہا ہوں اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کریں۔بہت ہی امکانات ہیں احمدیت کی ترقی کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن بڑھ رہے