خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد ۶ 505 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۸۷ء کرتی ہیں مگر ایک بات بہر حال درست ہے کہ خوا ہمیں خواہ کیسی ہی بھیا نک کیوں نہ ہوں جماعت احمدیہ کے حق میں ان کی تعبیریں ہمیشہ حسین نکلتی ہیں اور ان چند ڈراؤنے خوابوں کو دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ برکتوں اور خوشیوں کے دن چڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ایسے ایسے نظارے جماعت احمد یہ دیکھتی ہے کہ خوا میں کوئی بھی بداثر ان کی یاد پر بھی باقی نہیں چھوڑ تھیں۔مگر جب تک خواب کی کیفیت طاری ہو جب انسان اس بعض اوقات دل ہلا دینے والے نظارے سے گزر رہا ہو جو وہ خواب میں دیکھتا ہے تو صرف بچہ ہی نہیں بسا اوقات بڑا انسان، عمر رسیدہ بھی تکلیف محسوس کرتا ہے، کچھ دیر کے لئے وہ گھبراتا ہے اور پریشان ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ جلد یہ خواب کی کیفیت دور ہو اور بسا اوقات خواب کے دوران ہی اسے کچھ کچھ یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہے یہ خواب ہی ، میرا اعملا تو کچھ بگاڑ نہیں سکے گی مگر اس کے باوجود میں تکلیف کی حالت میں ہوں۔پس کچھ اسی قسم کی کیفیت آج جماعت احمدیہ کی ہے۔ماضی پر نظر ڈالیں تو یقین سے دل بھر جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جماعتوں کو جن کی داغ بیل اس نے اپنے ہاتھ سے ڈالی ہو کبھی بھی نہیں چھوڑا۔وقتی ابتلا آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اور ان کے عقب میں ہمیشہ عظیم الشان کامیابیاں ان کے قدم چومنے کے لئے تیار رہتی ہیں اور خدا تعالیٰ ہمیشہ بار بار اپنے فضل لے کر آتا ہے۔اس کے باوجود جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابھی ہم خواب کی اس حالت میں سے گزر رہے ہیں جس کی تکلیف کا احساس بھی ساتھ ساتھ ہمارے شامل حال ہے۔لیکن یہ عمومی دعاوی تکلیف پہنچانے کے اور یہ کوشش کہ سارا ملک جماعت احمدیہ کے خلاف حرکت میں آجائے ،ان دعاوی کا اب وہ حال نہیں رہا اور ان کوششوں کا بھی اب وہ حال نہیں رہا کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پاکستان کے عوام نے ایسے دعاوی کرنے والوں کی امنگوں پر پانی پھیر دیا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ ظلم کی ہر راہ میں یہ ہمارے شریک سفر ہو جائیں گے بلکہ عوام کی بھاری اکثریت بار بار ان کی ان کوششوں کو دھتکارتی رہی ہے اور رد کرتی رہی ہے اور دن بدن اللہ تعالیٰ کے فضل سے رائے عامہ میں جماعت احمدیہ کے حق میں اچھے خیالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں جو بڑھتے چلے جا رہے ہیں بلکہ بعض اوقات ایسی ایسی خبریں بھی ملتی ہیں کہ وہ لوگ جو پہلے ظلم میں شریک ہوا کرتے تھے، نہ صرف ہاتھ بھینچ بیٹھے ہیں بلکہ جماعت کی تائید میں لفظی اور فعلی طور پر جو کچھ ان سے بن سکتا ہے وہ کرنا شروع کر چکے ہیں۔