خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 506
خطبات طاہر جلد ۶ 506 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء پس بالعموم تو یہی کیفیت ہے لیکن ایک معاملے میں حکومت کے کارندے اور علماء یعنی سارے علماء تو ہر گز نہیں علماء کا ایک سوء طبقہ، ایک بدنصیب طبقہ ابھی تک ان مذموم کوششوں سے باز نہیں آرہا بلکہ بعض پہلوؤں سے اور زیادہ شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور ان کا تخریبی دائرہ کلمہ توحید کو مٹانے کی حد تک محدود ہو چکا ہے، ان کی تمام تر توجہ اب اس جہاد پر مرکوز ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے کلمہ طیبہ کو جماعت کے سینوں سے نوچ پھینکا جائے ، ان کی مساجد سے مٹا کر نیست و نابود کر دیا جائے اور جہاں تک بس چلے ان سے کلمہ طیبہ کا کھلا کھلا انکار کر وایا جائے۔کلمہ طیبہ جسے ہم پاکستان اور ہندوستان کے ایک بہت حصے میں ، ایک بڑے حصے میں کلمہ طیبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں در حقیقت کلمہ شہادہ کہلاتا ہے اور عرب دنیا اسے کلمہ شہادہ کے نام سے جانتی ہے اور یہی اصل صحیح اصطلاح بھی ہے۔مراد یہ ہے یہ گواہی دینا ، یہ شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔پس اس وقت پاکستان کی حکومت کے کارندوں اور علماء کے ایک ٹولے کی تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز ہو چکی ہیں کہ اس کلمے کا جماعت احمدیہ سے جبراً انکار کر وایا جائے۔وہ کہتے ہیں اگر تم یہ گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد مصطفی امی کو سچے ہیں اور خدا کے رسول ہیں تو ہمیں اتنی تکلیف پہنچتی ہے، ایسا اشتعال آتا ہے کہ ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ہاں اگر تم یہ گواہی دو کہ خدا ایک نہیں بلکہ بے شمار ہیں اور اگر یہ گواہی دو کہ نعوذ بالله من ذالک حضرت اقدس محمد مصطفی یہ خدا کے بندے اور رسول نہیں ہیں تو پھر ہم تم سے اعراض کریں گے، پھر تم جو چاہو کرتے پھرو پھر ہم تم سے کوئی باز پرس نہیں کریں گے۔یہ اعلان ہے جو بار بار مساجد کے منبروں سے بھی ہو رہا ہے اور پاکستان کی عدالت کی کرسیوں سے بھی ہو رہا ہے اور کھلم کھلا حج یہ اعلان کرتے ہیں کہ تم احمدیوں کا کوئی حق نہیں کہ یہ بچی گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد مصطفی یہ اس کے بچے رسول ہیں اور یہ بیماری چھوٹی سطح کی عدالتوں میں نسبتاً کم ہے اور اوپر کی سطح کی عدالتوں میں جہاں ان کو حکومت سے اپنی ترقیات کی تمنا ئیں وابستہ ہیں کہیں کہیں بڑے نمایاں طور پر سر نکالتی دکھائی دیتی ہے۔بالعموم عدلیہ کے متعلق تبصرہ پسندیدہ نہیں اس لئے میں اس پر مزید کچھ گفتگو نہیں کرتا لیکن