خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 504
خطبات طاہر جلد ۶ 504 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء والے احمدیوں کی ایسی تھی یعنی یہاں جلسے میں شمولیت کے لئے جو آنا چاہتے تھے ان کی تعداد ایسی تھی جنہیں بڑی درشت روئی سے اور بدخلقی سے ویزہ دینے سے انکار کر دیا گیا۔بالعموم انگلستان کی حکومت سے اس قسم کی توقعات نہیں کی جاتیں کیونکہ دنیا میں ان کے عدل کا معیار بہت اونچا مشہور ہے اور ان کی روایات اس پہلو سے بہت بلند ہیں اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک با قاعدہ حکومت کی پالیسی کے تابع ہوا یا انفرادی طور پر کوئی بدخلق افسر تھا جس نے اپنے طور پر یہ زیادتی کی۔مگر بہر حال جو بھی صورت تھی اس کا جماعت احمدیہ کے جلسے کی حاضری پر بہت ہی برا اثر پڑا۔اس کے باوجود ہمیں شکوے کا حق نہیں۔ان کے انصاف کے معیار سے تو شکوے کا حق ضرور ہے لیکن جس قسم کے انصاف کا مظاہرہ خود ہمارے اپنے بھائی ہم سے کر رہے ہیں اس کو دیکھیں تو ہرگز ان سے شکوے کا کوئی حق نہیں بلکہ ہم پھر بھی ان کا شکریہ ادا کرنے کے سزاوار ٹھہرتے ہیں کیونکہ اختلاف مذہب کے باوجود، باوجود اس کے کہ ہم میں سے بہت سے آج یہاں ایسے ہیں جن کا اس وطن کی شہریت سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود بالعموم یہ قوم بڑے حوصلے کا سلوک کرتی ہے اور بالعموم ان کا رویہ دوستانہ یا شریفانہ رہتا ہے۔پاکستان کے جن حالات کے متعلق میں نے اشارۃ ذکر کیا ہے۔کچھ عرصے سے میں نے ان کے متعلق تفصیلی روشنی نہیں ڈالی لیکن آج کے خطبے کے لئے میں نے ایک خاص پہلو سے ان واقعات پر روشنی ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ تحریک جو عمومی مخالفت کی تحریک تھی ، وہ تحریک جس میں حکومت علی الاعلان یہ کہہ کر شامل ہوئی اور بار ہا شامل ہوئی کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس ملک سے نیست و نابود کر دیں۔ایک لمبے عرصے کی جاہلانہ کوششوں کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جو یہ ارادے لے کر اُٹھے ہوئے تھے وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یہ توفیق نہیں بخشی کہ وہ جماعت احمد یہ کو نقصان پہنچا سکیں۔ہاں جماعتی رنگ میں کچھ نقصان کی باتیں تو کر سکتے ہیں ، تکلیف دہ باتیں کر سکتے ہیں، ایذاء رسانی تو ممکن ہے لیکن یہ ممکن نہیں کے وہ نعوذ بالله من ذالک جماعت احمدیہ کو کسی پہلو سے کوئی دائمی نقصان پہنچاسکیں۔عارضی تکلیف کے دن آتے بھی ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں اور یہ باتیں خوابیں بن جایا