خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 491
خطبات طاہر جلد ۶ 491 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء جن کو ارتداد کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور اس راہ میں جان دیتے ہیں یہ انہیں کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔بہر حال انسان چونکہ کمزور ہے اُسکے زندگی کے مختلف لمحے ایسے آتے ہیں اور ہر انسان کی زندگی میں بعید نہیں کہ ہر روز ایسے لمحے آتے ہوں جو تقویٰ کی حفاظت سے باہر ہوں۔لاعلمی کے نادانی کے غفلتوں کے، اپنی طبعی چاہتوں سے مجبور ہو جانے کے لمحے ، بہت سی کمزوریاں ہیں جن کے نتیجے میں انسان زندگی میں بار ہا تقویٰ سے باہر قدم رکھ دیتا ہے۔جو نیک لوگ ہیں وہ قدم واپس لے لیتے ہیں پھر کوشش کرتے ہیں کہ باہر نہ جائیں، جن کا رجحان بدی کی طرف مائل ہے ان کے اکثر قدم باہر رہتے ہیں کبھی کبھی وہ تقویٰ کی حفاظت میں بھی آجاتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے کہ ہم میں سے اکثریت وہ ہے جو اس آیت کے مضمون پر پورا اتر رہی ہے کہ لَا تَمُوتُنَّ وَاَنْتُمْ مسْلِمُونَ۔مرنا نہیں جب تک مسلمان نہ ہو۔اس کا علاج ہے جو یہ بتایا گیا ہے کہ اس خدا تعالیٰ نے جو تمہارے لئے وحدت کی زندگی پیدا فرما دی تفرقے میں سے ایک وحدت کو تخلیق فرمایا، یعنی نبوت کے ذریعے اور خلافت کے ذریعے اس وحدت کی حفاظت کا انتظام فرما دیا تم اس میں شامل رہنا۔اُس اجتماع میں اگر تم شامل رہو گے اور یہ فیصلہ کر لو گے اس سے ہمیں باہر نہیں جانا، کسی قیمت پر بھی اس اجتماعیت کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرنا تو گویا خدا یہ وعدہ فرماتا ہے کہ تم سے یہ رحمت کا سلوک فرمائے گا کہ تمہیں ان لمحوں میں وفات دے گا جب خدا تم سے پیار کر رہا ہو گا۔ایسے لمحے تو بعض بدوں پر بھی آجاتے ہیں کہ ان کے دل سے ایک نیکی کا چشمہ پھوٹتا ہے گو وہ لمبا عرصہ جاری رہنے والا چشمہ نہیں ہوتا لیکن بعض دفعہ یک لخت جیسا کہ خدا فرماتا ہے پتھروں میں سے بھی چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔سخت دل لوگ جو گناہوں میں مبتلارہ کر اپنی تمام نرم حالتوں سے محروم رہ چکے ہوتے ہیں ان کے دل میں سختی سختی رہ جاتی ہے، اچانک کسی ایک گوشے سے کسی ایک دبے ہوئے جس طرح بلبلہ ساد با ہوا ہوتا ہے اس طرح بعض پتھروں میں بھی پانی کے بلبلے باقی رہ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رگیں ہیں کچھ ایسی نیکی کی جو پھوٹتی ہیں اچانک اور ان سے تم چشمے بہتے ہوئے دیکھو گے۔اسی طرح ہر بد کو بعض دفعہ نیک لمحوں کی بھی توفیق نصیب ہوتی ہے اور بڑے وہ خوش نصیب ہو گا جو ان لمحوں میں وفات پا جائے اور اسی طرح بہت سے ایسے نیک ہیں جو خواہ نیکی میں کتنا ہی ترقی کر چکے ہوں ان کو بعض بدلمحوں کی بدنصیبی بھی نصیب ہوتی ہے اور بعید نہیں کہ ان لمحوں میں وہ وفات