خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 492

خطبات طاہر جلد ۶ 492 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء پا جائیں۔اس سے حفاظت کا کیا طریق ہے وہ یہی ہے فرمایا خدا کی رسی پہ ہاتھ ڈالے رکھنا اللہ تم سے رحم کا سلوک فرمائے گا اور جو جماعت کے حق میں فیصلہ ہے وہ انفرادی طور پر تمہارے حق میں لکھا جائے گا۔جس جماعت سے تم وابستہ تھے اگر اجتماعی طور پر وہ متقی ہے اگر اجتماعی طور پر خدا کے نزدیک وہ مسلمان ہے تو جب تک خدا کی تحریر میں وہ جماعت مسلمان ہے تمہارا انفرادی طور پر مرنا بھی مسلمان کے طور پر مرنا شمار کیا جائے گا۔پس جولوگ جماعت کے ساتھ بغاوت کر کے باہر نکلتے ہیں اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں ان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کتنی خطرناک غلطی کرتے ہیں، زندگی کی سب سے خطرناک غلطی ہے۔وہ خدا کی حفاظت سے باہر چلے جاتے ہیں پھر ان سے وعدہ نہیں ہے کوئی ، ان کی موت کا پھر کوئی اعتبار نہیں کہ کس حالت میں آئے۔اس لئے بہت ہی بڑی اہم بات ہے کہ جماعت متفق اور متحد رہے۔اور جب ہم خلافت کہتے ہیں تو مراد سارا نظام جماعت ہے اس کو آپ خلافت سے الگ نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا : من عصی امیری فقد عصانی۔جس نے میرے امیر کی ، میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی و من عصاني فقد عصى الله۔جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی (مسلم کتاب الامارۃ حدیث نمبر : ۳۴۱۸)۔یہی وہ حبل اللہ کا منفی مضمون ہے جو بیان ہو رہا ہے وہی رستہ ہے جس کی آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے کہ خدا کے بعد حبل اللہ تو میں ہوں اور یہ حبل اللہ تم پر ان لوگوں کی ذریعے پہنچے گی جن کو میں نے مقرر فرمایا ہے یا جو میری یا جو میری نیابت کر رہے ہیں۔پس اگر وہاں تم نے ان سے بے ادبی کا سلوک کیا اور ان کی نافرمانی کی تو یہ سمجھنا کہ تم نے میری کی اور جو میری نافرمانی کرتا ہے وہ خدا کی اطاعت سے یقیناً باہر ہوتا ہے۔اس لئے نظام جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا اور ادب اور اطاعت کے ساتھ وابستہ رہنا بہت ہی اہم ہے اور ایک اور پہلو سے بھی اہم ہے کہ وہ لوگ جو حبل اللہ کو چھوڑ نا شروع کر دیتے ہیں اور جماعت میں رہتے ہوئے بظاہر ایسے حرکتیں شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں نظام جماعت کا رعب کم ہو جاتا ہے، اس کی وقعت کم ہونے لگ جاتی ہے، لوگ اسے تخفیف سے دیکھنے لگ جاتے ہیں۔وہ صرف اپنی ہلاکت کا موجب نہیں بنتے بلکہ اردگرد اپنے ماحول میں دوسروں کی ہلاکت کا بھی موجب بن جاتے ہیں اور بالعموم ایسی جماعتوں میں پھر افتراق کا رجحان شروع ہو جاتا ہے، پارٹی