خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 490

خطبات طاہر جلد 4 490 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء تھا۔فرمایا محمد مصطفی یہ تشریف لائے اور خدا نے ایسا کیا کہ تمہارے دلوں کو محبت کے مضبوط بندھنوں سے باندھ دیا فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِةِ اِخْوَانًا اسی کی نعمت سے یعنی اللہ کی نعمت سے تم بھائی بھائی بن گئے۔یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے کیونکہ اتمام نعمت ہی کا مطلب نبوت ہے۔آپ قرآن کریم کا مطالعہ کر کے دیکھیں ہر جگہ نعمت کے کمال تک پہنچے کا نام ہی نبوت ہے۔تو یہاں نعمت ہی میں حضرت محمد مصطفی ﷺ اور نبوت کا ذکر فرمایا گیا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی کی برکت تھی جس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر فضل فرمایا۔دلوں کو خدا باندھتا ہے دلوں کو انسان نہیں باندھتا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر جو کچھ زمین میں ہے تو خرچ کر دیتا تب بھی ان کے دلوں کو باندھ نہ سکتا یعنی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط نہ کر سکتا۔یہ اللہ ہی ہے جس کا دلوں پر تصرف ہے اور جس نے دلوں کو جوڑا ہے۔لیکن کس ذریعہ سے وہ سیمنٹ کیا تھا؟ وہ جوڑنے والا مادہ کیا تھا؟ فرمایا بنعمة نبوت کے ذریعے محمد مصطفی مے کی برکتوں کے ذریعے تمہیں باندھ دیا گیا ہے۔وَكُنتُم عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ تم آگ سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا تمہیں اُس سے خدا تعالیٰ نے نجات بخشی اور اس طرح خدا تعالیٰ کھول کھول کر اپنے نشان بیان فرماتا ہے تا کہ تم ہدایت پاؤ۔اب یہ مضمون شروع ہوا تھا تقویٰ سے اور حق تقیہ سے کہ تقویٰ کا حق ادا کرو اور اس دوسری آیت کے آخر پر فرمایا ہے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے یہ کسی آیت کو کسی مضمون کو کھول دیا ہے تمہارے لئے۔پس دراصل یہ تقویٰ کا ہی مضمون ہے جسے کھولا گیا ہے اور پہلی آیت میں جو کچھ ہدایت دی گئیں تھیں اس کی تفصیل ہے جو دوسری آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔پس وہ لوگ جو فی الحقیقت تقویٰ کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ متحد ہو جائیں اور خدا کی رسی پر اس مضبوطی سے ہاتھ ڈال دیں گے کہ کسی قیمت پر بھی وہ اس رسی کو چھوڑ نا قبول نہ کریں۔قرآن کریم میں دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ عروہ وثقی پر ان کا ہاتھ پڑ گیا لا انفِصَامَ لَهَا ( البقرہ: ۲۵۷) اب اس عروہ سے وہ ہاتھ الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔کوئی کاٹ دے تو کاٹ دے مگر وہ ہاتھ نہیں چھوڑے گا اس عروہ کو۔پس اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے