خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 489
خطبات طاہر جلد ۶ 489 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء ہے اور جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق خدا تعالی کا یہ فیصلہ ہے کہ جو ایسے لوگوں کی معیت میں بھی ہوان کو بھی خدا اپنے فضل اور برکتوں سے محروم نہیں کرتا۔پس یہاں ایسی جماعت مراد ہے جو خد اوالی جماعت ہے، ایسی جماعت مراد ہے جس نے اللہ کی رسی پہ مضبوطی سے ہاتھ پکڑا ہوا ہے۔فرمایا تم بھی شامل ہوتے چلے جاؤ اس جماعت کی برکت سے خدا تمہیں نہیں مرنے دے گا جب تک کہ خدا کی نظر میں تم مسلمان نہیں ہو چکے ہو گے۔حبل اللہ کیا ہے؟ حبل اللہ کی مختلف رنگ میں تفسیر کی گئی ہے۔مختلف پرانے مفسرین نے مختلف زاویوں سے اس کو سمجھا دیکھا پر کھا اور بالعموم سب کی نظر اس بات پر گئی کہ حبل اللہ یا تو وہ کتاب ہے، وہ وحی ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا وہ رسول ہے جس پر وہ وحی نازل ہوتی ہے۔اس کے سوا آسمان سے تو ہم نے کوئی رسی اترتی نہیں دیکھی جس کے اوپر ہم ہاتھ ڈال دیں اور یہ سمجھیں کہ ہم محفوظ ہو گئے ہیں۔تو دراصل یہ دو باتیں ہیں ہی نہیں۔رسالت ہی حبل اللہ ہے۔اللہ کا رسول اس تعلیم سے رسول بنتا ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے اس تعلیم کے سوا اس کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی اس لئے رسالت اور وحی اور کتاب کو الگ الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔پس حبل اللہ سے مراد خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا اس کا پیغمبر، اس کا رسول ہے اور اس کی اطاعت میں داخل ہو جانا، اس کی بیعت میں داخل ہو جانا، اس کی غلامی کا دم بھرنا اور یہ کوشش کرتے رہنا کہ اس کی اطاعت سے باہر نہ جایا جائے یہی وہ حبل اللہ ہے جس کی طرف قرآن کریم میں اشارہ فرمایا گیا ہے لیکن یہ حبل اللہ انبیاء کی وفات کے بعد بھی جاری رہتی ہے اور بعض صورتوں میں سب سے اعلیٰ شکل میں نبوت کے بعد خلافت کی صورت میں ملتی ہے اور اس کے بعد اگر خلافت نہ ہو تو پھر مجددیت ہے یا اور خدا تعالیٰ کے ایسے بزرگ اور اولیاء امتوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کے ساتھ تعلق جوڑ نا گویا ایک رنگ میں حبل اللہ سے تعلق جوڑنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ اسی حبل اللہ کا ذکر کر کے فرمایا ہے، اس کی تشریح میں فرمایا ہے:۔وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءِ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا یاد کرو اس وقت کو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، جب بھائی بھی بھائی کا دشمن تھا، جب قبیلہ قبیلے کا دشمن تھا اور سارا عرب ایک دوسرے کی دشمنی سے پھٹا ہوا