خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 462
خطبات طاہر جلد ۶ 462 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء آپ کی نیکیاں Skyscrapers بنی شروع ہو جائیں گی ، بالا خانے عطا ہوں گے اس لئے کہ اگر پہلی نسل بھی نیکی پہ قائم ہو جائے تو ایک منزلہ نیکی کی بجائے دومنزلہ نیکی بن گئی اور اگر نسلاً بعد نسل اسی طرح ان کی اولاد اور پھر اُن کی اولاد اور پھر اُن کی اولا د نیکیوں پر قائم ہوتی چلی جائے تو آپ کو تو Skyscrapers ہی اس شان کے عطا ہوں گے کہ دنیا نے کبھی اس شان کے Skyscrapers نہیں دیکھے۔امریکہ کے بنائے ہوئے Skyscrapers تو کوئی چودہ سوفٹ جا کہ ختم ہو جاتا ہے، کوئی پندرہ سوفٹ پہ جا کے ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ جو بالا خانے ہیں یہ زمین سے اُٹھتے ہیں اور آسمان سے باتیں کرتے ہیں، ان کی بلندیاں آسمان کے کنگروں کو چھوتی ہیں۔اتنے عظیم الشان اجر ہیں اس نیکی کے جو اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں کہ میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اس کے پیچھے تبع کریں اور اس کی رُوح کو قائم کرتے ہوئے پورے انہماک اور پورے خلوص کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ ان کی قربانیاں قبولیت کا درجہ پا جائیں تو پھر اجر اتنا ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔ایسی رفعتیں آپ کے لئے مقدر ہیں خدا کی طرف سے کہ کسی انسان کا تصور بھی ان کو نہیں پہنچ سکتا۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی چند دن ہوئے انگلستان کی جماعت کو ایک بہت گہرا صدمہ اُٹھانا پڑا۔ہمارے ایک بہت ہی مخلص اور فدائی دوست احمدی داؤ د احمد صاحب گلزار اچانک دل کی بیماری سے وفات پاگئے۔سی بھی ان لوگوں میں سے تھے جو وقف کی روح رکھتے تھے اور بظاہر وقف نہیں تھے لیکن زندگی کا ہر حصہ ہر شعبہ، ہرلحہ ان کا وقف کی طرح گزرتا تھا۔مسجد سے بے انتہا محبت، ہر دین کے کام میں آگے آگے۔میرے یہاں آنے پر جن لوگوں نے غیر معمولی ہاتھ بٹایا ہے ان میں یہ بھی ایک سر فہرست تھے۔اس لئے ساری جماعت کا اور میرا یہ بڑا گہرا صدمہ ہے۔اللہ تعالیٰ انہی غریق رحمت فرمائے اور جن بالا خانوں کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے ان کو بھی نصیب ہوں اور ان کی اولاد میں بھی جن میں ابھی بھی میں نیکی کے بہت بڑے آثار دیکھ رہا ہوں، ان کی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ انہیں راہوں پر چلائے اور آگے نسلاً بعد نسل ان کو مزید نیکیاں عطا فرماتا رہے۔ان کی نماز جنازہ تو ہو چکی ہے اس لئے حاضر کے بعد غائب نماز جنازہ پڑھنے کا تو کوئی سوال نہیں ہے۔