خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد ۶ 461 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء امتیازی شانیں تھیں جن کو حضرت ذکریا نے محسوس فرمایا اور ان امتیازی نشانات کو دیکھ کر ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی اور جو د عا بن گئی کہ اے خدا! مجھے بھی تو ایسی اولا د عطا فرما۔جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیی کی خوشخبری دی۔پھر اسی ماں کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ہوا اس کے بھی بچپن میں آثار دوسرے بچوں سے مختلف تھے۔فِي الْمَهْدِ وَ كَھلا ( آل عمران : ۴۷) وہ گفتگو کرتا تھا ، خدائی گفتگو کرتا تھا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا تھا۔تو ان دونوں مثالوں میں ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ بچپن ہی سے وقف کرنے والی اولاد کے دل میں اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی محبت پیدا کرنی چاہئے اور صرف کوشش سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے جب تک وہ آثار ان میں ظاہر نہ ہو جائیں اُس وقت تک اطمینان نہیں پکڑ نا چاہئے۔پس اب ان کی تربیت کا جو دور ہے اس میں اللہ تعالیٰ ماں باپ کو زندگی عطا فرمائے کہ وہ خود محبت کے ساتھ ان وقف شدہ بچوں کی تربیت کر سکیں۔اس تربیت کے دور میں دعا ئیں بھی آپ کو کرنی ہوں گی، ہر قسم کے ذرائع کو استعمال میں لانا ہو گا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں دن بدن اپنی اولاد کی طرف سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی چلی جائیں گی۔آئے دن آپ ان کی طرف سے ایک جنت کے نظارے دیکھیں گے کہ ان کے اندر خدا تعالیٰ ، پھر دیکھیں، ان بچوں میں کس طرح اپنی محبت کے ساتھ ساتھ اپنے قرب کے نشان ظاہر فرماتا ہے اور جو بچے بچپن سے ہی خدا تعالیٰ سے محبت کرنے لگ جائیں ان کے لئے اعجازی نشان عطا ہونے میں دیر نہیں کی جاتی۔یہ خیال نہ کریں کہ جب تک وہ بڑے نہ ہو جائیں، بالغ نہ ہو جائیں اللہ تعالیٰ ان سے کوئی اعجازی سلوک نہیں فرمایا کرتا۔بچپن سے ہی ان کے اندر اعجازی طاقتیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں ان کی دعائیں قبول ہونے لگ جاتیں ہیں ان کی خواہشات دعا بن جاتیں ہیں اور ایسے بچے نمایاں ہو کر باقی بچوں سے ایک الگ وجود دکھائی دینے لگتے ہیں۔ایسے وقف کریں جو قرآن کریم کی وقف کی مثالوں کے اوپر پورے اترنے والے ہوں۔ایسے وقف کریں کہ اگلی صدیاں ناز کریں ان پر بھی اور آپ پر بھی جنہوں نے وقف کئے تھے کہ ہاں ہاں ایسی ایسی مائیں تھیں جنہوں نے یہ عمل ہمارے لئے تحفہ بھیجے، ایسے باپ تھے جنہوں نے اس طرح دعاؤں کے ساتھ اور گریہ وزاری کے ساتھ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کا خیال رکھا تھا اپنے جگر گوشے ہماری ہی بھلائی کے لئے پیش کر دئیے تھے۔یہ جب آپ کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ آپ کو ان نیکیوں کے برابر اجر نہیں بلکہ دوہرا تہرا ہمیشہ بڑھتے رہنے والا اجر عطا ہوگا اور