خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 463
خطبات طاہر جلد ۶ 463 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء مگر ایک اور مخلص کارکن سلسلے کے ایسے ہیں جن کی آج جمعہ کے بعد نماز جنازہ ہوگی وہ بھی ایک غیر معمولی مقام رکھنے والے واقف زندگی تھے، مولوی عزیز الرحمان صاحب منگلا مربی سلسله جو 29 جون کو وفات پاگئے ہیں۔مولوی عزیز الرحمان صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ایک پیر تھے منور دین صاحب جن کے ذریعے ان کو احمدیت نصیب ہوئی اور منور دین صاحب کا بہت اثر تھا منگلا علاقے میں۔چنانچہ ان کے اثر کے نتیجے میں منگلا قوم میں رجحان پیدا ہوا لیکن کچھ عرصہ تک احمدیت سے کھلم کھلا وابستہ رہنے کے باوجود یا اس کی تائید کرنے کے باوجود دنیا کے دباؤ میں آکر وہ پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے۔ان کا خیال تھا کہ ان کا شاگر درشید عزیز الرحمان بھی ان کے ساتھ ہی واپس چلا جائے گا لیکن یہ حقیقۂ شاگر درشید تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو رشد عطا فرمایا تھا۔نہ صرف یہ کہ واپس نہیں گئے بلکہ بہت کھلم کھلا ان کا مقابلہ کیا ہے۔مناظروں میں ان کو چیلنج دیئے ان کے تمام ان اثرات کو مٹایا جو وہ بعد میں قوم میں پھر پیدا کرنا چاہتے تھے اور نیک اثرات کو قائم رکھا۔چنانچہ اس لحاظ سے ہزاروں کی ہدایت کا موجب بنے ہیں یہ اور وقف زندگی بھی کیا پھر ان کے تقاضوں کو نبھایا بھی۔اس لئے یہ خاص مقام رکھنے والے خادم سلسلہ ہیں ان کی نماز جنازہ غائب ابھی جمعہ کے بعد ہوگی۔اسی طرح ہمارے ایک بچپن میں ہمارے ساتھ قادیان میں وقت گزار نے والے اکٹھے کھیلنے والے کیپٹن عبد الحمید صاحب سیال کے متعلق ان کے صاحبزادے طاہر احمد نے اطلاع دی ہے وہ آج کل کینیڈا میں ہیں کہ یہ وفات پاگئے ہیں اور انہوں نے خط میں وہ بعض واقعات ان کے بچپن کا ذکر کے کہ ہمارے والد ہمیشہ ہمیں آپ کے متعلق یہ بتایا کرتے تھے۔اس لئے خاص طور پر میرے محبت کے جذبات کو اُٹھایا ہے۔بیدار کیا ہے کہ ان کے لئے خصوصیت سے دعا کروں تو آپ بھی اس دعا میں شامل ہوں۔ان دونوں کی نماز جنازہ غائب جمعہ کی نماز کے معا بعد ہوگی۔