خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد ۶ 460 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء کہ اب وقت کی تحریک ہے ہم اپنے خاوند کو اپنے جذبات کی بنا پر کیسے محروم کریں اس نیکی سے۔تو بڑے دلچسپ لطیفے ہیں لیکن پر خلوص لطیفے ہیں۔ان کے اندر گہرا قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔اگر خاوند کی طرف سے نہیں تو بیوی کی طرف سے تو ضرور پایا جاتا ہے۔تو جماعت اس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان بچوں کو پیش کر رہی ہے لیکن ان آیات کو میں نے اس وجہ سے بھی منتخب کیا کہ آپ کو یہ بتاؤں کے بچے پیش کرنا کافی نہیں ہوگا کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔وَمَا اَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ ِبالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ مَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا کہ تم جو مال پیش کرتے ہو اور جو اولادیں پیش کرتے ہو ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ فی ذاتہ ان کے ذریعے تم خدا کے رضا خرید سکتے ہو، اللہ تعالیٰ کی محبت کے سودے کر سکتے ہو۔اموال کے تو ہو سکتے ہیں اگر تم مخلص ہو اور اولاد کے اس حد تک ہو سکتے ہیں کہ تمہارا اخلاص قبول ہو جائے گا لیکن اگلی نسل کا وقف اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خود بھی ایمان لانے والی ہو اور عمل صالح کرنے والی ہو۔اگر وہ ایمان لے آئیں اور عمل صالح کریں تو پھر ان کی ساری نیکیاں تمہارے درجات کی بلندی کا موجب بھی بنے گیں پھر دو منزلہ اور کئی کئی منزلوں والے بالا خانے تمہیں عطا ہوں گے لیکن اگر ا گلی نسل تک تمہاری نیکی رک گئی اور وہاں ان میں داخل نہ ہو سکی یا وہ اسے لے کر آئندہ نسلوں تک پیغام کے طور پر جاری نہ کر سکے تو پھر یہ معاملہ ختم ہو جائے گا پھر بالا خانے کا مضمون پیدا نہیں ہوگا۔پس جماعت کو اپنی اس اولاد کی تربیت کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بچپن سے ہی ان بچوں کے دلوں میں خدا کی محبت اس طرح بھر دیں اور اس خلوص کے ساتھ ان کے لئے دعائیں کریں کہ جو آپ کی کوتاہیاں ہیں ان کو نظر انداز فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت بھرنا شروع کر دیں۔مائیں ان کو دودھ میں اللہ کی محبت پلائیں اور بچپن سے یہ مختلف دکھائی دینے لگیں۔یہ جو مضمون ہے مختلف دکھائی دینے والا اس کا تعلق بھی ایک بچے کے وقف سے ہے۔حضرت مریم کو ان کی والدہ نے وقف فرمایا اور خدا کے سپر د کر دیا کہ اب تو جان جو چاہے کر میں نے تو وقف کرنا تھا لڑکا یالڑ کی عطا کرنا تیرا کام تھا۔جو کچھ بھی ہے میں نے تیرے حضور پیش کر دیا اور قرآن کریم فرماتا ہے بچپن سے ہی ان کے حالات دوسرے بچوں سے مختلف تھے۔اُن کے اندر بعض