خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد ۶ 445 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۸۷ء میں اس وقت پاکستان کے احمدی اٹھا رہے ہیں۔سب سے زیادہ قربانیوں میں بھی اس وقت پاکستان کے احمدی آگے بڑھ چکے ہیں اس لئے سب سے زیادہ ان کا حق ہے کہ ان کو آپ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اگر آپ ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے تو اللہ کے فرشتے آپ کو دعاؤں میں یادرکھیں گے کیونکہ یہی وہ دستور العمل ہے روحانی دنیا کا جس کی حضرت اقدس محمد مصطفی میہ نے ہمیں خبر دی۔اپنے بھائی کے لئے اگر فکر سے کوئی دعا کرتا ہے، دل کی لگن کے ساتھ خلوص اور محبت کے ساتھ تو ویسے ہی اس پر آسمان دعائیں کر رہا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر اُس کا اجر خدا کے ہاتھ میں ہے وہ دوسرے کی فکر میں رہتا ہے خدا کے فرشتے یعنی مراد یہ ہے خدا کا سارا نظام اس کی فکر میں ہو جاتا ہے۔تو اس طریق پر ہم جو بھی دعائیں کریں گے اپنے بھائیوں کے لئے وہ لوٹیں گی ہماری طرف ہی اور جب بھی خدا کے نظام سے ٹکرا کر چیزیں لوٹا کرتیں ہیں یاد رکھیں وہ کم ہو کے نہیں لوٹا کرتیں۔ہمیشہ بڑھ کہ کوٹتی ہیں۔یہی وہ فرق ہے جو دنیاوی اور آسمانی نظام میں ہے۔دنیاوی نظام میں کوئی چیز بھی جو کسی جگہ سے ٹکرا کر آتی ہے بڑھ کر نہیں آتی اس میں کوئی نہ کوئی کمی آجاتی ہے۔اس لئے شعائیں جو آسمان کے پردوں سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف کوٹتی ہیں ، ریڈیائی شعاعیں ہوں یا دوسری بسا اوقات ان کو Boost کرنے کے لئے دنیا میں مختلف کلیں لگائی جاتی ہیں تا کہ وہ جو کمزوری بار بار ٹکراؤ میں اور لوٹنے سے ان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے یا سفر کے نتیجے میں وہ دور ہونی شروع ہو جائے یا وہ دور ہو کر مزید قوت کا اس میں اضافہ ہو جائے ہے لیکن یہ اللہ کی عجیب شان ہے کہ روحانی نظام میں اور دعاؤں کے نظام میں جب خدا مومن کے خلوص کے جذبات کو لوٹاتا ہے تو بہت زیادہ بڑھا کہ لوٹاتا ہے۔بوسٹر تو لگے ہوئے ہیں لیکن وہ آسمان پر لگے ہوئے ہیں ہماری پہنچ سے بہت باہر اور بہت بالا لیکن ایساز بر دست یہ بوسٹنگ کا نظام ہے کہ بعض دفعہ چھوٹی سی نیکی غیر معمولی طور پر عظمت اختیار کر جاتی ہے خدا کے ہاں اور جب وہ واپس آتی ہے انسان تک تو اس کی شکل بھی نہیں پہچانی جاتی ایسی اس میں حیرت انگیز حسین تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے، ایسی عظمت آجاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ان کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی کیونکہ بیرونی جماعتوں کو بعض معاملات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔خصوصیت سے صد سالہ جو بلی کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ابھی تقریباً ساٹھ