خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد ۶ 444 خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۸۷ء کا شکر خواہ کسی نیت سے کیا جائے وہ ایک ایسا موتی ہے جو عطا کے لئے بہانے ڈھونڈتا ہے اس لئے اس نے عطا پھر بھی کرنا ہی کرنا ہے اور اسی سال اس کے میں نے کثرت سے نظارے دیکھے ہیں۔جماعت احمدیہ کے مختلف ممالک میں مختلف حالات ہیں بعض جگہ کثرت سے بعض دوستوں کو پریشانیاں بھی ہیں اور پھر ان کے حالات میں اونچ نیچ آتا رہتا ہے کسی اچھے وقت میں زیادہ وعدہ کر بیٹھے جوش سے محبت سے اس امید پر کہ یہ اچھے دن جاری رہیں گے اور کچھ دن کے بعد نوکری نہیں ملی کوئی اور جو ذریعہ تھا معاش کا وہ ہاتھ سے جاتا رہا۔باقی ساری باتیں بھول گئے لیکن چندے کا بوجھ ذہن میں سب سے اوپر رہا اور سب سے زیادہ اس فکر میں غلطاں ہو گئے کہ ہم چندہ کس طرح ادا کریں گے۔چنانچہ ایسے لوگوں کے بھی خط ساتھ آنے شروع ہو جاتے ہیں جوں جوں مالی سال اختتام کو پہنچ رہا ہوتا ہے ایک طرف بیت المال کی طرف سے خط آرہے ہوتے ہیں۔ایک طرف ایسے مخلصین کے خط آرہے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں اتنے ہمارے مہینے رہ گئے اتنے مہینے رہ گئے اور ابھی تک کوئی انتظام نہیں۔پھر ان کے خط آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ کس طرح حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ور صرف انتظام ہی نہیں فرمایا بلکہ ان کے جو زائد بوجھ تھے وہ بھی اتار دیے۔جو کچھ خدا کے حضور انہوں نے پیش کیا اس سے بھی زیادہ خدا تعالیٰ نے عطا فر ما دیا اور جو پہلا پیش کیا وہ بھی خدا کے فضل سے کیا ورنہ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ایسے حیرت انگیز سلوک اللہ تعالیٰ ساری دنیا میں خدا کی خاطر مالی قربانی کرنے والی جماعت سے اور جماعت کے افراد سے کر رہا ہے کہ اس کے بعد کسی شک کی کسی وہم کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ ہم تو بے سہارا جماعت ہیں، ہمارا کوئی مولا نہیں ہے۔ہمارا ایک ایسا مولا ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر ہماری حفاظت کرتا ہے۔ہمارا ایک ایسا مولا ہے جو لمحہ لمحہ اپنے قرب کا احساس دلاتا چلا جاتا ہے فَانِي قَرِيب (البقرہ: ۱۸۷) کے طور پر ہم اسے دیکھتے ہیں اور ہمیشہ اس کے قرب کے جلوے مختلف شکلوں میں جماعت احمدیہ پر اور احباب جماعت احمدیہ پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔پس اس سال کی جو کامیابی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوئی اور چونکہ بعض جماعتوں نے باقی دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ قربانی سے کام لیا ہے اس لئے ساری دنیا کی جماعتوں کا فرض ہے کہ ان کو خاص طور پر دعاؤں میں یاد رکھیں۔سب سے زیادہ تکلیف بھی راہِ خدا