خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد ۶ 446 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۸۷ء فیصدی سے زیادہ نہیں ہوا گزشتہ چودہ یا پندرہ سالوں میں بیرونی جماعتوں کا چندہ۔یہ چندہ جیسا کہ میں نے ایک دفعہ پچھلے خطبے میں بھی بیان کیا تھا جو جو بلی کا چندہ ہے اس کا تخمینہ آج سے بہت پہلے لگایا گیا تھا یعنی آج سے تقریبا دس بارہ سال پہلے جو وعدے موصول ہوئے ان پر بناء کرتے ہوئے بجٹ بنا ہے۔اس وقت اگر بیرونی جماعتوں کا پانچ کروڑ کا وعدہ تھا تو جب ہم کہتے ہیں کہ پچاس فیصدی وصولی ہوئی تو مراد یہ ہے کہ اڑھائی کروڑ وصولی ہوئی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ دس بارہ سال میں چندہ دینے کی جماعت کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔بعض صورتوں میں تو گزشتہ چار پانچ سال کے اندر ہی تین تین چار چار گنا چندہ بڑھا ہے لازما اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے چندے دینے والے بھی داخل ہوئے اور پرانے نسبت سے کم چندہ دینے والے بھی آگے بڑھے ہیں۔تقویٰ کا معیار آگے بڑھا ہے، دین سے محبت آگے بڑھی ہے۔بہر حال جب باقی سب چندوں میں کئی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور گزشتہ چار پانچ سال کے اندر تو دس بارہ سال کے اندر ، آپ اندازہ کر سکتے ہیں کم و بیش دس بارہ سال کا عرصہ ہو گا کہ جماعت کے اندر نئی توفیقات میں کتنا اضافہ ہوا ہوگا ہے۔پس اس نقطہ نگاہ سے اگر دیکھیں تو بیرونی جماعتوں کا ساٹھ فیصد کے قریب جو بلی کو چندہ ادا کرنا ایک فرضی عدد ہے۔آج اگر جائزہ لیا جاتا اور آج تحریک ہوتی تو پانچ کروڑ کی بجائے مجھے یقین ہے کہ میں کروڑ کے قریب وعدے ہوتے تو عملاً اگر آپ نے تین کروڑ ادا کیا ہے تو ہیں کے مقابل پر تین کیا ہے نہ کہ پانچ کے مقابل پر لیکن اس کے باوجود بعض بیرونی جماعتیں ایسی ہیں، یورپ میں ہیں مثلاً جو خدا کے فضل سے اپنی توفیق کے مطابق اور بعض جگہ اپنی توفیق کو کھینچ کر آگے بڑھ رہی ہیں اور ادائیگیوں میں خدا کے فضل سے صف اول میں ہیں۔ان پر کسی اور وجہ سے انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے یاددہانی کی کمی کی وجہ سے یہ بوجھ اچانک پڑ گیا ہے۔ان کو گویا اب یاد آیا کہ اوہو! ہم نے تو ایک بہت بڑا چندہ ادا کرنا تھا جو پہلے کرنا چاہئے تھا۔اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے تو ہمیں یاد کرایا جا رہا ہے۔اس لحاظ سے وہ ان کی حالت خاص دعا کی محتاج ہے۔مگر تمام دنیا میں اس چندے کی طرف اب خصوصی توجہ دینے کا وقت آ گیا ہے اب تو آج اور جوبلی کے سال کے درمیان وقت ہی کوئی نہیں رہا۔سارے جو پروگرام بنائے جارہے تھے اب ان پروگراموں پر عمل درآمد کا وقت ہے اور تیزی سے وہ اخراجات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اگراب تاخیر کر دی گئی تو خطرہ ہے کہ وقت پر ہم