خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد ۶ 443 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۸۷ء بڑھانا یہ ناممکن ہے یہ ہوہی نہیں سکتا۔اس وقت عرب دنیا میں بہت کثرت سے ایسے لوگ ہیں جن میں سے ایک ایک تمام جماعت کے تمام چندوں سے بڑھ کر اگر چاہے تو خدمت دین میں خرچ کر سکتا ہے اور سال میں ایک دفعہ نہیں ہر مہینے اس سے زیادہ خرچ کر سکتا ہے۔بعض ایسے ہیں کہ ہر ہفتے اتنا خرچ کر سکتے ہیں اور پھر بھی ان کو فرق نہ پڑے۔اس لئے ایک غریب جماعت کے لئے ، ایک عالمگیر غریب جماعت کے لئے اتنی عظیم مالی قربانی کو ہمت اور وفا کے ساتھ جاری رکھنا ایک بہت بڑی چیز ہے اور بوجھ اتنا زیادہ بعض دفعہ محسوس ہوتا ہے کہ واقعی اگر ایک انسان پورا ایمان نہ رکھتا ہو اس کا دل ڈول جائے گا کہ اب تو ادائیگی ہماری استطاعت سے باہر چلی گئی ہے۔اس کے باوجود خدا نے فضل فرمایا اور کل جو پاکستان سے بذریعہ فون اطلاع ملی ہے اس کے مطابق خدا کے فضل سے پاکستان نے سابقہ روایات کو قائم رکھا ہے اور ہمیشہ کی طرح وعدوں سے آگے قدم بڑھایا ہے پیچھے نہیں ہے۔اس لئے ایک تو یہ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کا مقام ہے جتنا بھی خدا کا شکر ادا کیا جائے اتنا کم اور جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اتنا وہ زیادہ عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم میرا شکر کرو گے میں تمہیں بڑھاتا چلا جاؤں گا۔لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : ۸) اگر تم میراشکر ادا کرو گے تو میں اسی نسبت سے تمہیں اور زیادہ عطا کرتا چلا جاؤں گا۔تو خدا تعالیٰ کے شکر کا ایک تو ویسے بھی موقع ہے قطع نظر اس کے کہ خدا تعالیٰ اس کے نتیجے میں زیادہ عطا کرتا ہے کہ نہیں عطا کرتا۔مومن کے اندر احسان مندی کا جذبہ پایا جاتا ہے اور وہ احسان مند اس نیت سے نہیں ہوا کرتا کہ اس احسان مندی کے بعد کچھ زیادہ ملے گا اور خدا تعالیٰ کے تو اتنے احسانات ہیں کہ سابقہ کا ہی حق ادا کرتار ہے انسان تو لاکھوں کروڑوں زندگیاں بھی پائے تب بھی وہ حق ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے یہ کہنا کہ اب حق ادا کر دیا اب ہمیں اس کے بدلے مزید دے اس مطالبے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس مومن کو تو اپنی نیت یہی رکھنی چاہئے کہ ہم جذ بہ احسان مندی کے تابع جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس کی حمد و ثناء کے گیت گائیں اس کا شکر ادا کریں۔پل پل ذہن اس کی طرف لوٹے اور حمد کے ترانے گائے۔اس نیت کے ساتھ شکر کرنا چاہئے لیکن میں آپ کو بتا تا ہوں کہ خدا تعالیٰ