خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد ۶ 393 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء ہے یعنی قومی نفرت وہ خالصہ قومی نفرت بھی نہیں۔وہ دراصل عادات کا بعد ہے جس کے نتیجے میں ایک مغائرت پیدا ہو جاتی ہے، ایک قسم کی دوری پیدا ہو جاتی ہے۔وہ اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کہاں سے آئے؟ کیسے انہوں نے رہن سہن سیکھا ؟ کس طرح یہ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں؟ کوئی ان کو بتانے والا نہیں کہ انسانیت کے تقاضے یہ ہیں یا وہ ہیں۔پھر ایسے اوقات میں شور کرنا جب کے دوسروں کے آرام کا وقت ہو، گلیوں اور بازارون میں تھوکنا، ٹوائلٹ میں جانا تو ٹوائلٹ کی صفائی کے تقاضے پورے نہ کرنا، جہاں کھانا کھایا وہاں ہڈیاں اچھال دینا چاروں طرف جنگل سمجھ کے کہ یہاں کیا فرق پڑتا ہے یا روٹی کے ٹکڑے پھینک دینا۔غرضیکہ بہت سی ایسی عادات ہیں جو بالعموم مشرق سے آنے والے اقتصادی لحاظ سے پسماندہ لوگوں میں اپنی اقتصادی پسماندگی کے نتیجے میں ایک لمبے عرصے میں راسخ ہو چکی ہیں۔اس قوم کو آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ صدیوں تم نے مشرق کا خون چوسا ، صدیوں تم نے مشرق پر حکومت کی اور دولت کے ساتھ رہنے کے جو اوصاف ہیں وہ بھی حاصل کر لئے اب کس بات کا شکوہ کرتے ہو ہم سے، آپ یہ کہہ کر تو ان کے منہ بند نہیں کرا سکتے گندگی بہر حال گندگی ہے، بری عادتیں بہر حال بری عادتیں ہیں۔اس لئے یہ کہہ کر نہ آپ خود مطمئن ہو سکتے ہیں نہ ان کو مطمئن کر سکتے ہیں۔اس کا تو ایک ہی علاج ہے کہ ان سے وہ صفائی کے سارے رہن سہن سیکھ لیں اگر آپ کو خود نہیں آتے لیکن ایک احمدی کے لئے یہ کہنا بڑے ہی تعجب کے بات ہو گی کہ وہ خود نہیں آتے۔صفائی اور نظافت اور اعلیٰ رہن سہن کے جیسے اسلوب حضرت اقدس محمد مصطفی احہ سکھلا گئے اس کی تمام خوبیوں اور حسن کو تو ابھی تک بھی یہ لوگ نہیں پہنچ سکے۔صرف اپنی تعلیم کو عمل میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ان کا اچھا رہن سہن دیکھ کر آپ یہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں کہ وہ جو شرف والی تعلیم لے کر آیا تھا میں تو ایک ایسے آقا کی غلامی سے منسلک ہوں جس نے ہر انسانی خوبی کو بلند ترین معیار تک پہنچادیا تھا اب میرے عملی نمونے سے یہ کیا سمجھیں گے۔نہ تو ان کے اندر یہ صلاحیت ہے اس وقت کہ وہ اقتصادی پس منظر کو دیکھ کر ایسے تجزیئے کریں کہ جس کے نتیجہ میں سمجھیں کہ یہ قوم مجبور تھی ہم نے ان کو غلام بنایا، یہ غریب ہو گئے اور اس کے نتیجے میں لازماً ایسی باتیں پیدا ہوئیں۔نہ ان میں یہ قابلیت ہے کہ ماضی کی تلاش کر کے حضرت محمد مصطفی امی ﷺ کی تعلیم کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ یہ تو بڑے ہی بدقسمت لوگ ہیں ہم سے