خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 392
خطبات طاہر جلد ۶ 392 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء برائیاں خود لے لیں۔اگر ایسا کریں گے تو قرآن آپ کی تقدیر کا فیصلہ پہلے ہی کر چکا ہے اور حضرت محمد مصطفی نے مثالیں دے دے کر بتا چکے ہیں کہ جس قوم میں یہ عادت پڑ جائے وہ زندہ رہنے کی اہل نہیں رہا کرتی، وہ یقینا غرق ہوگی۔ایک دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اپنی خوبیاں ان کو دیں اور ان سے ان کی خوبیاں لیں اور اس طرح خوبیوں کا اجتماع کریں۔اس صورت میں کوئی دنیا کی طاقت آپ کو ہلاک نہیں کر سکے گی لازماً آپ ایک بلندی کی منزل سے دوسری بلندی کی منزل کی طرف اونچا ہوتے چلے جائیں گے۔پس اس صورتحال کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو خصوصیت کے ساتھ آج باہر سے آنے والے احمدیوں کو درپیش ہے میں نصیحت کرتا ہوں کہ بعض اپنی خوبیاں جو خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہیں جو نسبتا مغرب میں کم ہیں ان خوبیوں کی حفاظت بھی کریں اور ان خوبیوں کو ان لوگوں میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور اسی طرح ان کی برائیوں سے بچتے ہوئے ان کی خوبیوں سے استفادہ کریں۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تو میں جیسا کہ آپ لوگ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ بہت برائیاں ان میں آچکی ہیں، اتنی بری بھی نہیں ہیں۔چند ایک برائیوں میں بہت آگے بڑھ گئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جن سے مشرق کی اکثر اقوام محروم ہیں۔یہاں مذاہب کی بحث نہیں ہے، یہاں تہذیبوں کی بات ہو رہی ہے۔مشرق کی تہذیب سے آنے والے لوگ بہت سی گندی عادات کا شکار ہو چکے ہیں۔وقت کا ضیاع ، جھوٹ بولنے میں جلدی کرنا، بہانے تراش کرنا، محنت سے جی چرانا اور اسی قسم کی وہ رہن سہن کی معاملات میں سہل انگاری اور گندے رہنا۔کمروں میں جا کر دیکھوتو بستر بکھرے پڑے ہیں کہیں تکیہ ہے کہیں چادر ، جو چیز گر گئی وہیں پڑی رہی۔کھانا بستر پہ بیٹھ کے کھا رہے ہیں تو داغ بھی پڑ رہے ہیں ساتھ ساتھ اور اسی قسم کی اور بہت سی ایسی عادتیں ہیں جس کے نتیجے میں ان کو رہن سہن بہت ہی تکلیف دہ اور بد منظر ہو جاتا ہے۔کھانا پکایا ہے تو برتن صاف ہی نہیں کئے یہاں تک کہ وہ جگہ جہاں برتن صاف کئے جاتے ہیں وہ بھی کھانے کے برتنوں کی طرح رفتہ رفتہ گندی ہو جاتی ہے، بد بوئیں اُٹھ رہی ہیں کہیں اولیاں لگ گئی ہیں۔نہایت ہی خوفناک مناظر بعض لوگوں کا رہن سہن پیش کرتے ہیں اور اسی طرح اور بہت سی عادتیں ایسی ہیں جن کو دیکھ کر مغرب والے حیران ہوتے ہیں کہ یہ کہاں سے جانور اُٹھ کے آگئے ہیں۔وہ جو Racial نفرت کہلاتی