خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد ۶ 394 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء بہت بہتر اصول رکھنے کے باوجود، ہم سے بہت بہتر تعلیم کے حامل ہونے کے باوجودا اپنی بدعملیوں کی وجہ سے یہ اس حال کو پہنچ گئے ہیں۔ان کو صرف آپ نظر آئیں گے اور آپ کے پیچھے اسلام نظر آئے گا اور آپ کی ہر بات کو یہ اسلام کی طرف منسوب کر دیں گے۔کیا دیکھا نہیں آپ نے کہ خمینی کے ساتھ یہ کیا کرتے ہیں؟ کیا سنا نہیں کہ لیبیا کے قذافی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔خمینی کی ہر بات اسلام بن کر ان کو دکھائی دیتی ہے اور قذافی کی ہر حرکت ان کو اسلام بن کر سنائی دیتی ہے۔یہ تیار بیٹھے ہیں کہ ہر بدی کو اسلام کے منہ پر تھو ہیں، ہرظلم کو اسلام کی طرف منسوب کریں۔آج انہوں نے Terrorism کا نام بھی اسلام رکھ لیا ہے، یہ Islamic Terrorism ہے ، یہ اسلامی ظلم ہے حالانکہ اس سے بہت زیادہ مظالم بہت ہی زیادہ خوفناک مظالم آئر لینڈ میں بھی ہور ہے ہیں لیکن اس کا نام Christian Terrorism یہ کبھی نہیں رکھیں گے۔تو جو پہلے ہی تیار بیٹھے ہوں کہ نکتہ چینی کریں، جو بہانے ڈھونڈیں کہ آپ کے نقائص آپ کے مذہب کی طرف منسوب کریں۔ان کے نزدیک آپ کا کوئی قصور نہیں ہوگا، تمام قصور اسلام کا ہوگا۔کتنا بڑا گناہ کر رہے ہوں گے آپ کہ ہر خوبی اسلام کی تھی اور ہر قصور آپ کا تھا لیکن آپ نے برداشت کر لیا کہ آپ کے سارے قصور محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی پاکیزہ تعلیم کی طرف منسوب کر دیے جائیں۔یہی ہورہا ہے اور یہی ہوتا چلا جائے گا اگر اپنے اندر آپ نے ایک نمایاں پاک تبدیلی پیدا نہ کی۔پس اپنی ان خوبیوں کو دوبارہ حاصل کریں جن کو مدتوں سے آپ کھو چکے ہیں۔ہزار سال سے لمبا عرصہ ہو گیا کہ مسلمان بد قسمتی سے تنزل کرتے ہوئے اسلام کی تعلیم سے دور ہٹتے چلے گئے اور نظافت اور نجابت اور روزمرہ کے ملنے جلنے کے اعلیٰ اخلاق جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں سکھائے تھے ان سب سے غافل ہو گئے۔اس زمانے میں جبکہ اکثر گھروں میں دروازے بھی نہیں ہوتے تھے بعض دفعہ پردے لٹکا کر کام لیا جاتا تھا بعض دفعہ پر دے بھی نہیں انکائے جائے تھے۔حیرت کی بات ہے چودہ سوسال پہلے ہر اپنے غلام کو یہ عادت ڈالی کہ کہیں بغیر اجازت کے کسی گھر میں کسی دروازے میں داخل نہیں ہونا۔سلام کہو اور اجازت حاصل کرو اور اگر اجازت نہیں ملتی تو کسی قسم کی دل پر میل لائے بغیر السلام علیکم کہہ کے اس گھر سے الگ ہو جاؤ ( بخاری کتاب الاستیذان حدیث نمبر : ۶۲۴۵)۔آج یورپ میں یا دوسری ترقی یافتہ قوموں نے لمبے عرصے اور لمبے تجربے کے بعد یہ