خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 391 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 391

خطبات طاہر جلد ۶ 391 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء کرنے کے لئے بھی بعض دفعہ دعا ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے وسیع روحانی تجارب کے بعد اس راز کو ہم پر کھولا جو ایک کھلی ہوئی حقیقت بھی ہے لیکن اک راز سر بستہ بھی ہے، اکثر انسان اس کی اہمیت سے ویسے واقف نہیں جیسا کہ ہونا چاہئے۔جو پروگرام میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ عام روز مرہ کی باتیں ہیں جو پہلے بھی کہتا رہا ہوں اب پھر کہوں گا لیکن ایک خاص صورتحال کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ باتیں میں دہرانا چاہتا ہوں۔جب بھی قوموں کی بدقسمتی ہوتی ہے، جب ان کے برے دن آتے ہیں تو ان میں یہ رجحان پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی برائیاں دوسروں کو دیتے ہیں اور دوسروں کی برائیاں خود لینے لگ جاتے ہیں اور جب قوموں کے اچھے دن آتے ہیں ان کے مقدر جاگتے ہیں تو بالکل اس کے برعکس صورت پیدا ہوتی ہے۔وہ اپنی برائیاں چھپاتے ہیں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہیں اور لوگوں سے ان کی برائیاں لینے کی بجائے ان کی خوبیاں اخذ کرتے ہیں اور برائیاں دور کرنے کے لئے ان کو نصیحت کرتے ہیں اور نصیحت کو قوت دینے کے لئے اپنے نیک اعمال سے اپنی نصیحت کو طاقت دیتے ہیں۔قرآن کریم نے قوموں کے عروج وزوال کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کا خلاصہ یہی ہے۔آنحضرت ﷺ نے کئی مثالیں دے کر ہمیں سمجھایا اور بتایا کہ جب تو میں ہلاک ہونے لگتی ہیں تو پہلی علامت ان میں یہ ظاہر ہوتی ہے کہ وہ برائی سے نہ شرماتے ہیں نہ برائی سے منع کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی کشتی میں سفر کرنے والے دیکھیں کہ سب سے نیچے جو لوگ اس کشتی میں سفر کر رہے ہیں وہ پیندے میں سوراخ کر رہے ہیں اور اس کے باوجود وہ سوراخ کرنے سے منع نہ کریں ( بخاری کتاب الشہادۃ حدیث نمبر: ۲۴۸۹)۔قومی زندگی میں برائیوں سے نہ روکنا اور برائیوں کی شرم اُڑ جانا اور برائیوں سے روکنے کے لئے ایک دوسرے کو نیک نصیحت کے ذریعے باز رکھنے کی کوشش نہ کرنا یہ ہلاکت کا آغاز ہے۔پس آج یورپ میں آباد ہونے والے احمدی چونکہ اکثریت ایسے احباب کی ہے جو دوسرے ممالک سے یہاں تشریف لائے ہیں اس لئے اس خاص صورتحال کے پیش نظر میں آپ کو خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ یہاں آئے ہیں تو دونوں میں سے ایک چیز آپ کے اختیار میں ہے یا یہ کہ اپنی برائیاں ان کو دیں جو پہلے ان کو عادت نہیں تھی وہ گندی عادت ڈال دیں اور ان کی