خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد ۶ 390 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء خدا خود مددگار ہوگا۔اس فریضہ کے متعلق بھی یہی سکھایا گیا کہ جب تک دعا نہیں مانگو گے یہ فریضہ بھی ادا نہیں کر سکو گے۔انسانی معاملات میں سب سے زیادہ اہمیت عبادت کو ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: ۵۷) میں نے انسان کو اور جن کو محض عبادت کی غرض سے پیدا کیا ہے۔جو پیدائش انسانی کی غرض ہے، جس کی خاطر خدا نے پیدا کیا اس کے لئے بھی قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ جب تک دعا نہیں کرو گے اس کی توفیق نہیں پاؤ گے۔چنانچہ سورۃ فاتحہ نے ہمیں یہ گر سکھایا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: ۵) اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں یا کریں گے، تینوں معنوں میں اس کا ترجمہ ہو سکتا ہے لیکن اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ شرط یہ ہے کہ تو مددفرما تیری مدد کے بغیر ہم عبادت کرنے کے اہل نہیں ہیں ، تیری مدد کے بغیر اس کی ذمہ داریاں ہم ادا نہیں کر سکیں گے، تیری مدد کے بغیر یہ بوجھ ہی رہے گا اس میں کوئی لذت پیدا نہیں ہوگی۔اس لئے دعا اول بھی ہے اور آخر بھی اور ہر چیز کا اول اور ہر چیز کا آخر ہے۔دعا ہی سے آغا ز کی توفیق ملتی ہے اور دعا ہی سے کام نیک نتائج تک پہنچتے ہیں۔اس لئے جماعت کو بار بار یہ یاد دہانی کرانی پڑتی ہے کہ اپنے تمام معاملات میں دعا کو وہ مقام نہ دیں کہ جب کچھ پیش نہ جائے ، تب معاملہ ہاتھ سے نکل جائے تو اس وقت خدا کو یاد کریں کہ اب تو کچھ بھی نہیں رہا سوائے خدا کے۔دعا کو اول رکھیں اور ہر کام سے اول رکھیں۔ہر معاملے میں دعا پر زور دیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ کے فضل سے آپ کی عام روز مرہ کی طاقتوں میں کتنی جلا پیدا ہو جاتی ہے۔مسائل خود بخود آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔وہ مشکلات جو پہاڑ کی طرح نظر آتی ہیں وہ خود بخود سہل اور بالکل آسان ہو کر اس طرح حل ہونے لگتی ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ جادو منتر ہو جائے کسی چیز پر۔سب جادوؤں سے بڑھ کر دعا کا جادو ہے۔اس لئے دعا پر بہت ہی زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔اس تمہید کے ساتھ جو باتیں میں آپ سے کہوں گا ان تمام باتوں کو حاصل کرنے کے لئے اب بھی دعا کریں اور آئندہ بھی مسلسل دعا کا سہارا لیتے رہیں دعا کی توفیق پاتے رہیں اور کبھی کبھی یہ بھی دعا کیا کریں کہ اے خدا! ہمیں دعاؤں کی توفیق عطا فرما۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کی سمجھ نہیں آتی کہ شروع کہاں سے ہوتا ہے اور ختم کہاں ہوتا ہے ساری زندگی پر دعا کا مضمون حاوی ہے۔دعا