خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 389
خطبات طاہر جلد ۶ 389 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء بھی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔بہت سے مجرم ، بہت سے معصوم اس وقت صلیب دئیے جاتے تھے اور تاریخ دان کی نظر میں ایک روز مرہ ہونے والا واقعہ جیسے خزاں میں ایک پتا گر جاتا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔آج عیسائی دنیا اس دور کو کتنی عظمت دیتی ہے۔پس جب میں کہتا ہوں کہ ہالینڈ کی تاریخ میں یہ ایک عظیم دن ہے تو میں ماضی سے قوت پاکر احمدیت کے شاندار مستقبل کی بات کرتا ہوں۔ماضی سے سہارا لے کر مستقبل میں دور تک دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگاتا ہوں کہ آئندہ آنے والا مؤرخ ہالینڈ کی تاریخ میں جو اہم دن شمار کیا کرے گا اس میں اس دن کی کیا حیثیت ہوگی؟ پس یقیناً خدام الاحمدیہ کے مؤرخین اس دور میں جو آج سے پانچ سوسال بعد آئے یا ہزار سال بعد یا خدا کرے اس سے بہت پہلے آجائے ، یقیناً اس دن کو ایک اہمیت دیں گے۔پس اس دن کو دعاؤں کے ساتھ شروع کریں اور اس عرصے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس دن سے وابستہ ہو چکے ہیں۔دعا کا مضمون جتنی مرتبہ بھی بیان کیا جائے ہمیشہ تشنہ تکمیل ہی رہتا ہے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ دعا جتنی ظاہر ہے اتنی چھپی ہوئی بھی ہے۔ظاہر ان معنوں میں کہ وہ لوگ جو صاحب تجر بہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ تمام ذرائع سے زیادہ قوی اور یقینی ذریعہ دعا کا ذریعہ ہے اور اس مضمون سے واقف جتنے جماعت احمدیہ میں اس وقت افراد ہیں دنیا کی ساری جماعتوں میں مل کر بھی اتنے افراد موجود نہیں ہوں گے۔شاید ہی کوئی گھر ہو جس نے دعاؤں کے اثر کا مشاہدہ نہ کیا ہو ، شاید ہی کوئی خاندان ہو جس نے دعاؤں کا ثمرہ نہ کھایا ہو، دعاؤں کا پھل نہ کھایا ہو لیکن اس کے باوجود یہ چھپی ہوئی حقیقت بھی ہے یعنی انسان جاننے کے باوجود بھی اپنے اکثر مسائل میں، اپنی اکثر مشکلات میں دعا کو بہت بعد میں رکھتا ہے اور انسانی کوشش کو پہلے رکھتا ہے اور اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ انسانی کوشش میں برکت کے لئے ہر کوشش کا آغاز بھی دعا سے ہونا چاہئے ، انسانی کوشش کی توفیق پانے کے لئے بھی ہر کوشش کا آغاز دعا سے ہونا چاہئے۔قرآن کریم تو یہاں تک بتاتا ہے یعنی سورۃ فاتحہ کہ عبادت جیسا مقدس ترین انسانی فریضہ جس کے متعلق انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ خدا کی خاطر ، خدا سے تعلق کے لئے کر رہا ہوں اس کے لئے