خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد ۶ 370 دونوں بہت تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک دوسرے کے بعد فوت ہو گئے۔خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء پھر ایک ڈاکٹر محمد اسلم صاحب ہومیو پیتھ لاہور کے تھے یہ بھی عبدالحمید صاحب غازی ہی کی طرف سے اطلاع ملی ہے۔یہ بھی میں جانتا ہوں بڑے نیک آدمی خدمت کرنے والے یہ بھی وفات پاگئے ہیں ان کو فالج کا حملہ ہوا تھا کچھ عرصہ پہلے۔شیخ محمد اقبال صاحب شیخ محمد حنیف صاحب کے بھائی ( مجھے تو یاد پڑتا تھا کی ان کی نماز جنازہ ہو گئی ہے مگر یہاں انہوں نے بتایا ہے کہ ابھی تک نہیں ہوئی ) یہ بھی بہت مخلص خاندان کے فرد تھے خود بھی بڑے نیک مزاج اور خوش خلق۔اسی طرح ڈاکٹر صادق احمد صاحب بنگالی کنری سندھ کے ہیں۔یہ بھی بہت جماعت سے محبت کرنے والے مخلص، دین کی خدمت کرنے والے۔سعید الدین احمد ابن حمید الدین صاحب جرمنی ( سعید الدین احمد بچہ ہے آٹھ ماہ کی عمر تھی جب وہ وفات پا گیا) حمید الدین صاحب نے درخواست کی ہے کہ صحت مند بچہ تھا اور کوئی بیماری بھی نہیں ہوئی صرف ایک بیماری ہے جو بہت ہی Rare ہے کہ سوتے میں بغیر کسی بیماری کے دم نکل جائے اس سے چونکہ وفات ہوئی اس لئے ماں باپ کے لئے غیر معمولی صدمے کا موجب ہے تو ان سب کی نماز جنازہ انشاء اللہ نماز جمعہ کے معا بعد ہوگی۔عید کے متعلق وقت کا اعلان امام صاحب نے کر دیا ہو گا انشاء اللہ ساڑھے دس بجے اسلام آباد میں ہوگی۔جہاں تک جمعہ کا تعلق ہے اس کے متعلق میں نے تمام احادیث اور فقہی آراء اکٹھی کروائی تھیں ان کا مطالعہ کیا ہے بڑی تفصیل سے اس وقت اس کے تفصیل سے بتانے کا تو موقع کا نہیں لیکن ایک پہلوا بھی تشنہ ہے یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایک ہی موقع آیا جس میں جمعہ اور عید ا کٹھے تھے یا ایک سے زیادہ مواقع آئے۔اگر ایک ہی موقع تھا تو پھر جومستند روایات ہیں وہ یہی بتاتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خود جمعہ پڑھا عید کے علاوہ اور باہر سے دور سے آنے والوں کو رخصت دی اور جو مقابلہ غیر مستند یا دور کی روایات ہیں اُن سے دو قسم کی شکلیں آرہی ہیں سامنے۔ایک یہ کہ آپ نے جمعہ پڑھا عید کے ساتھ ہی اور پھر نماز ظہر بھی اس وقت نہیں پڑھی گئی اور ایک یہ کہ نماز ظہر پڑھی گئی اور جمعہ نہیں پڑھا گیا۔تو اگر ایک ہی جمعہ تھا تو پھر یہ باقی ساری