خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد ۶ 371 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء روایتیں نا قابلِ اعتماد ہیں اور سب سے زیادہ وزن دار روایت وہی ہے جس کو میں نے بیان کیا ہے اور اگر ایک سے زائد جمعہ ہیں تو پھر ہو سکتا ہے کہ ایک جمعہ میں ایک مؤقف اختیار فرمایا گیا ہو اور دوسرے جمعہ میں دوسرا مؤقف اختیار فرمایا گیا ہو۔چونکہ یہ بات ابھی قابل تحقیق ہے اس لئے ہم اسی مستند روایت پر ہی عمل کریں گے یعنی اسلام آباد میں عید ہوگی اور جو دور سے آنے والے ہیں جن کو آنحضرت ﷺ نے خود رخصت فرما دی کہ وہ بے شک جمعہ میں شامل نہ ہوں ان کا جمعہ عید کے ساتھ ہی ہو جائے گا لیکن ہم جمعہ پڑھیں گے یہاں اور مختصر جمعہ بالکل چند کلمات کہہ کر مسنون خطبہ کے بعد وہ ختم کر دیا جائے گا۔اس لئے جو دوست اس حلقے میں رہنے والے ہیں جو شامل ہو سکتے ہیں یا جو نماز ظہر میں شامل ہوتے ہیں وہی شامل ہوں جو دور سے آنے والے ہیں ان کو خدا اور رسول نے اجازت دے دی ہے مگر اگر وہ شامل ہونا چاہیں کہیں جمعہ میں تو ان کی مرضی ہے۔اس سے روکا بھی نہیں ہے۔اسلام آباد والے فیصلہ کر لیں وہاں تو میرا خیال ہے مرکزی جمعہ جو ہے یہیں کا کافی ہے۔وہاں اس وقت باقیوں کے لئے ابتلاء آجائے گا کیونکہ جو لوگ پھیلے ہوئے ہوں گے وہاں کھانا کھا رہے ہیں مختلف مشاغل میں مصروف اگر جمعہ کی اذان ہو اور وہ نہ شامل ہوں تو اپنے آپ کو مجرم محسوس کریں گے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ وہاں ظہر کی نماز ہی پڑھی جائے اور ان کا جمعہ عید کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا۔یہاں مرکزی مسجد میں جو اس وقت ہماری مرکزی مسجد ہے اس میں ہم جمعہ ادا کریں گے۔