خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 334

خطبات طاہر جلد ۶ 334 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء کے ساتھ ان کو مشورہ دیا کرتے تھے۔جب آپ کا وصال ہوا تو یہ کہنا کہ مشورے دینے والے کلیۂ دنیا سے غائب ہو گئے یا مشورے کی برکت اٹھ گئی یہ درست نہیں ہے۔خدا رفتہ رفتہ دوسرے لوگوں کو توفیق بخشتا ہے۔ایک کی جگہ اگر ایک پر نہیں کر سکتا تو دس پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا تو غلط ہے کہ وہ برکتیں پوری کی پوری وہ اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔لیکن یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ان کے جانے سے کوئی خلاء پیدا نہیں ہوا۔مدتوں لوگ ان کی یاد کو اس پہلو سے یاد رکھتے رہے اور بسا اوقات مجھے بھی خط لکھا کرتے تھے کہ اب تو ربوہ آکر سمجھ نہیں آتی کہ کس کے پاس جائیں اور کس سے جا کر اپنی مشکلات میں مشورہ کریں۔خلیفہ اسیح کی ذات خطوں کے ذریعہ تو سب اس تک پہنچ سکتے ہیں لیکن ہر وقت جب آدمی چاہے دروازہ کھٹکھٹائے اور فوراوقت لے لے یہ تو ممکن ہی نہیں۔اس لئے ہمیں ایک خلاء محسوس ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ اس خلاء کو ایک سے زیادہ وجودوں نے پورا کرنے کی کوشش کی یعنی طبعی طور پر ارادہ نہیں اور کئی پہلوؤں سے پر بھی ہوا۔پھر کئی لوگ ہیں جو اور رنگ میں غریبوں کی ہمدردی اور خدمت کے لحاظ سے، کئی ڈاکٹر ہیں جو غیر معمولی طور پر غرباء کا ہمدردی سے علاج کرنے والے ہیں اور بعض دفعہ میں جانتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ فیس لیں وہ اپنے پلے سے ان پر خرچ بھی کرتے ہیں۔ہمارے ڈاکٹر عقیل شہید اسی قسم کے ڈاکٹروں میں سے تھے۔غیر معمولی ہمدردی کا جذبہ، غیر معمولی انکسار اور ایثار کا جذبہ تھا اور جو بھی غریب احمدی ان کے دروازے تک پہنچا کبھی مایوس نہیں لوٹا۔ہمیشہ اسکی محبت اور شفقت کے ساتھ خدمت کی اُس کا علاج کیا اور ویسے بھی غرباء کے علاج کے لئے قطع نظر مذہب کے آپ کیمپ بھی لگاتے رہے۔اب یہ خوبی تو اپنی ذات میں جماعت سے اٹھنی نہیں چاہئے کوئی یہ کہے کہ وہ چلے گئے تو یہ برکت بھی جاتی رہی یہ ظلم ہو گا یعنی اگر جاتی رہی تو پھر ہمارا قصور ہے۔جانے والے کا قصور نہیں ہے تقدیر الہی کا قصور نہیں ہے۔اُن کا قصور ہے جنہوں نے ایک لمبے عرصہ تک ایسے شخص کی صحبت پائی اور اُس سے یہ نیکی کے گر اختیار نہیں کئے سیکھے نہیں اور ان نیک خصائل کو اپنا یا نہیں ہے۔لیکن ساتھ ہی اس کے خلاء کا احساس فور جو پیدا ہوتا ہے اس سے انکار نہیں ہے۔کوئی معقول شخص اس کی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا یہ ایک لابدی چیز ہے۔مدتوں تک احمدیوں کو بھی ، غیر احمدیوں کو بھی