خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 335

خطبات طاہر جلد ۶ 335 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۷ء جن جن کا بھی ایسے ڈاکٹروں سے واسطہ پڑا وہ یاد آتے رہیں گے۔اسی طرح آج ہم میں زندہ ڈاکٹر بھی ہیں زندہ انجینئر بھی ہیں اور پیشہ ور ہیں پروفیسر ہیں جو اپنے وقت دے کر طلبہ کی خدمت کرتے ہیں، اساتذہ ہیں۔احمدیوں میں کثرت سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے اوپر قرآن مجید کی آیت صادق آتی ہے وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴ ) کہ جو کچھ ہم نے ان کو عطا فر مایا وہ آگے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں پس جس کو جس پہلو سے اپنا جوائی رزق، الہی تحفہ غیروں کے افادہ کے لئے خرچ کرنے کی توفیق ملی اسی حد تک وہ صاحب برکت وجود نظر آتا ہے اور ہر صاحب برکت وجود بعض پہلوؤں میں نمایاں طور پر چمکتا ہے۔حضرت صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے متعلق جو خطوط موصول ہو رہے ہیں عورتوں کی طرف سے بھی اور مردوں کی طرف سے بھی ان سے پتا چلتا ہے کہ آپ کی شفقت کا دائرہ بہت ہی وسیع تھا اور مدت تک یہ نسل ان شفقتوں کو یاد کرے گی۔اگر خلاء نہ بھی پیدا ہو تب بھی ایسی شفقتیں ضرور یا درہتی ہیں۔صرف خلاء کی وجہ سے نہیں ویسے ایک اور بھی مضمون ہے جو اس میں اثر دکھاتا ہے وہ یہ کہ کسی کے احسان کے نتیجہ میں اس سے پیار پیدا ہو جاتا ہے۔اس کی محبت دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ویسا اگر کوئی اور ہو بھی تو ایک وفادار شخص ایک محسن کو بھلا تو نہیں دیا کرتا کہ اس کی بجائے اور محسن گئے ہیں۔محبت کا مضمون ایک جدا مضمون ہے اُس شخص کی برکت، اس شخص کی برکت کے طور پر پیاری ہو جاتی ہے ویسی برکت باہر سے ملتی بھی ہو تب بھی اُس جدا ہونے والے کی جدائی کا احساس ہمیشہ دل میں کھٹکتا رہے گا۔کسی شاعر نے کہا ہے:۔ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور تم سے جہاں میں لاکھ سہی تو مگر کہاں تم جیسے ہوں گے مگر ہمیں تم سے جو تعلق پیدا ہو چکا ہے ہمیں تمہاری ادا الگ دکھائی دیتی ہے یہ انکار نہیں کہ عقلا واقعہ تم جیسے سینکڑوں ہزاروں اور ہوں گے۔غیر جانبدار آنکھ دیکھے گی تو ہوسکتا ہے تم سے بہتر بھی قرار دیدے کسی کو گر ہمیں تمہاری عادت پڑ گئی ہے۔ہمیں تم سے پیار ہو گیا ہے۔پس ایک محسن اس لئے بھی خلاء چھوڑتا جاتا ہے کہ جو برکتیں اس سے حاصل کرتا ہے اس احسان کے نتیجہ میں اس کی جدائی تکلیف دیتی ہے۔