خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 333
خطبات طاہر جلد ۶ 333 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء ساتھ خلاء کا احساس ہوتا ہے لیکن جب آپ تجزیہ کریں تو اس کے علاوہ اور بھی بہت سے پہلو ہیں جو اس عمل میں کارفرما دکھائی دیتے ہیں اور محرکات بھی ہیں جو اپنا اپنا پارٹ (Part) پلے کرتے ہیں اس میں اپنا حصہ ادا کر کے یہ جدا ہو جاتے ہیں۔شخصیتوں پر اگر آپ غور کریں تو ہر شخصیت میں ہر خوبی کو اپنے اندر سمانے کی خاصیت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے بعض لوگ بعض پہلو کے لحاظ سے حسن اختیار کر جاتے ہیں، بعض دوسرے پہلو کے لحاظ کے حسن اختیار کر جاتے ہیں۔بعضوں میں ایک برائی باقی رہتی ہے حسن کے ساتھ بعضوں میں دوسری برائی باقی رہتی ہے۔اسی لئے ایک کہنے والے نے کہا۔گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں جو خو بیوں سے محبت کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بعض خوبیوں کے ساتھ بعض برائیاں بھی اکٹھی آئیں گی۔گلدستے سے پیار ہے تو کانٹوں سے بھی نباہ کرنا ہی پڑے گا۔تو ایسے وجود جو سراسر فیض ہوں اور ساری خوبیوں کے مجمع بن جائیں ،سارے انوار کا مہبط ہو جائیں،سارے حسن کا گلدستہ بن جائیں ایسے وجود استثنائی شان رکھنے والے وجود ہوتے ہیں اور عام طور پر ہمیں دنیا میں ملی جلی کیفیات کے لوگ نظر آتے ہیں۔ان میں کمزور بھی ہیں اور طاقتور بھی ہیں زیادہ حسین بھی ہیں کم حسین بھی۔پھر ہر ایک کی حسن کی صفت ایک الگ حیثیت رکھتی ہے۔کوئی کسی پہلو سے چمکتا ہے، کوئی کسی دوسرے پہلو سے چمکتا ہے۔اس لحاظ سے جب ایک شخص جاتا ہے، ہم سے جدا ہو جاتا ہے تو ہم بلا شبہ محسوس کرتے ہیں کہ بعض پہلوؤں سے وہ ہمیں ضرور یاد آئے گا اور وہ لوگ چاہے کیسے بھی ہوں اس کے باوجود ہمیں بعض پہلوؤں سے ہمیں اس کا خلا ء ضر ور محسوس ہو گا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ میں ایک خاص خوبی تھی کہ وہ جگ مشیر تھے۔کسی کو کوئی مشکل ہو کوئی مسئلہ ہو، مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو، بوڑھا ہو بڑا ہو، جوان ہو، ہر قسم کے لوگ ہر طرف سے یہ جان چکے تھے کہ آپ بہترین مشورہ دینے والے ہیں اس لئے کوئی مشکل ہو، مصیبت ہو، کوئی الجھن ہو سارے بے فکر آپ کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے۔درمیان میں کوئی دربان نہیں تھا، کوئی حفاظتی انتظام نہیں تھا ، دن ہو رات ہو کنڈیاں کھٹکتی تھیں آپ آتے اور بڑی شفقت