خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 328

خطبات طاہر جلد ۶ 328 خطبه جمعه ۱۵ارمئی ۱۹۸۷ء رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ، حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت مولا ناراجیکی صاحب وغیرہ یہ وہ گروہ ہے، غیر معمولی شان کے ساتھ چپکنے والے ستاروں کا ہے کہ جن کی روشنی میں بعض دوسرے ستاروں کی روشنی مدھم پڑ گئی اور ان کی طرف توجہ نہ کی گئی۔لیکن اب ہم ایسے دور میں داخل ہو گئے ہیں جب یہی صحابہ ہمارے لئے آسمان کے چمکتے ہوئے نمایاں ستارے بن گئے ہیں اور ہماری دعائیں ہیں، ہماری آرزوئیں ہیں، ہماری تمنائیں ہیں کہ ان کی روشنی ہم میں زیادہ سے زیادہ دیر تک چمکتی رہے اور ان سے جدائی ہونے کا وقت اور دیر تک ٹل جائے اور ان کے وصل کا عرصہ اور لمبا ہو جائے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا کی تقدیر نے تو بہر حال جاری ہونا ہے ایک لمبا عرصہ ہمیں ان کی سر پرستی حاصل رہی ، ان کا سہارا رہا۔ان سے ہم نے نیک روایات سنیں اور نیک روایات پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھا۔پس اس پہلو سے ہماری تربیت کا جہاں تک دور ہے یہ اتنا وسیع ہے کہ کسی انسان کو شکوے کا حق نہیں رہا کہ اے خدا ہمیں یعنی ہمارے تابعین کی نسل کو تو نے زیادہ لمبا عرصہ صحابہ سے تربیت پانے کا نہیں دیا۔کم و بیش ایک صدی تک یہ عرصہ دراز ہے اور اس عرصہ میں بھی اگر ہم تربیت پا کر تربیت کے ماحصل کو اپنی ذات میں محفوظ نہیں کر لیں اور ان کے اخلاق کو اپنے اخلاق میں جاری وساری نہ کر لیں، ان کی نیک روایات کو اپنی نیک روایات نہ بنالیں، ان کی دعاؤں کے رجحانات اور دعاؤں کے انداز کو اپنا نہ لیں تو پھر ہماری بدقسمتی ہوگی۔جہاں تک اللہ تعالی کی تقدیر کا تعلق ہے اس نے بہت لمبا عرصہ ہمیں ان چیزوں کے لئے دیا۔ان کے جانے سے افسوس ہوتا ہے ایک بھی اب جدا ہو تو غیر معمولی تکلیف ہوتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ جب آئے دن تقریباً ہر ہفتہ صحابہ فوت ہوتے تھے ان کے جنازے پڑھے جاتے تھے چونکہ پیچھے رہنے والے بھی بڑے روشن ستارے تھے اور کثرت سے تھے۔اس لئے اس خیال سے کہ گویا صحابہ ہم سے جدا ہو رہے ہیں خوف وہر اس کا کوئی پہلو بھی ذہن میں نہیں آتا تھا۔یہ بھی وقت ہے جبکہ بعض لوگوں کی توجہ بعض لوگوں کا ذہن خوف کی طرف بھی مائل ہو جاتا ہے انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سروں سے چھت اڑ رہی ہو ، جیسے بے سہارا رہ رہے ہوں۔یہ خوف درست نہیں ہے اور اسی کی طرف متوجہ کرنے کے لئے میں نے گزشتہ خطبہ میں خاص طور پر جماعت کو