خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد ۶ 327 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء بزرگوں کی برکتیں دائگئی ہیں۔ان کی نیکیوں کو زندہ رکھیں نیز رمضان کی نیکیوں کو دوام بخشیں ( خطبه جمعه فرموده ۱۵ رمئی ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: قوموں کی زندگی میں وہ دور بہت ہی اہم ہوتا ہے جب ایک نسل دوسری نسل سے جدا ہورہی ہوتی ہے اور اسے دو نسلوں کے جوڑ یا سنگم کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔یہ جدائی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے نتیجہ میں یک لخت واقع نہیں ہوتی بلکہ ایک تدریجاً لمبا سلسلہ ہے جو کافی مدت تک دراز رہتا ہے لیکن بالآخر اسے آخری دموں تک پہنچنا ہے۔صحابہ کی نسل سے تابعین کی نسل کی جدائی کا یہ دور بھی ایک لمبا تدریجی عمل ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے لمحہ سے شروع ہوا اور تقریباً اسی برس ہو گئے ابھی تک جاری ہے۔آج بھی ہم میں صحابہ تو موجود ہیں لیکن بہت شاذ اور صحابہ میں سے وہ صحابہ جو اس زمانے میں صحابہ کی صف اول میں یا صف دوم میں بھی شمار نہیں ہوتے تھے بلکہ جو خاص صحابہ کا دور کہلاتا ہے جب وہ کثرت کے ساتھ ملتے تھے اُس وقت صحابہ کے ساتھ شامل ہونے میں یہ صحابہ جو آج ہم میں زندہ موجود ہیں یہ غیر معمولی فخر محسوس کیا کرتے تھے۔واقعہ یہ فخر درست تھا لیکن جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے وہ عموماً ایسے صحابہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی نمایاں حیثیت اختیا ر فرما چکے تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل