خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 326
خطبات طاہر جلد ۶ 326 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء کر ان کی قدر کر کے ان سے جوڑ پیدا کر لیا کرتے ہیں اور جو صاحب کرام نہ ہوں ان کو ان جوڑ باتیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں اور جہاں جوڑ ہو سکتا ہے وہ نظر انداز کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے خصوصیت سے میں اس کا ذکر کرنا چاہتا تھا خطبہ میں کہ آپ کی زندگی اسی لحاظ کا نمونہ تھی۔آپ کا صاحب کرام لوگوں کی اولا د ہونا یعنی کرام کی اولاد ہونا کرام سے مراد ہے ذوالا کرام لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی کریمانہ اخلاق بخشے ہوں، اس بات سے بھی ثابت تھا کہ آپ کے اندر یہ کریمانہ صفت موجود تھی کہ اگر کوئی طبیعت کا اختلاف بھی ہے اسے نظر انداز کر کے جو خوبیاں اور نیکیاں ہیں ان سے تعلق جوڑ لیں۔چنانچہ آپ کی ساری زندگی کے تعلقات میں یہ بات ہمیشہ غالب رہی کہ خوبیوں پر نظر رکھ کر ان سے آپ تعلق جوڑا کرتی تھیں جہاں تک حضرت پھوپھا جان کا تعلق ہے ان کے اندر خدا تعالیٰ نے بڑی خوبیاں رکھی تھیں۔خصوصیت کے ساتھ ان کی مہمان نوازی ایک ضرب المثل تھی اور پھر یہ عبادت سے ان کا تعلق پنجوقتہ نماز اور باجماعت نماز کو شوق اور ذوق ایسا تھا کہ بہت کم لوگوں میں ایسے دیکھنے میں آتا ہے۔اس لئے آپ بھی کرام لوگوں کی اولا د تھے اگر چہ الہام یہ ذکر موجود نہیں لیکن ان کے اندر بھی بڑی خوبیاں تھیں۔تو ان دونوں کی اولاد کے لئے خاص طور پر دعا کرنی چاہئے کہ خصوصی خوبیاں جو حضرت پھوپھا جان کی تھیں یا حضرت پھوپھی جان کی تھیں وہ مل کر بڑھ جائیں بجائے اس کے ان کے اندر کمی محسوس ہو۔اس رنگ میں قومیں ترقیاں کیا کرتی ہیں۔والدین کی اچھی چیزیں اگر وہ اپنانے لگ جائیں اور کمزوریوں سے صرف نظر کریں اس طرح قو میں ہر لحاظ سے آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اللہ تعالی جماعت کو اس رنگ میں ہمیشہ اپنے آباؤ اجداد کی خوبیاں کو زندہ رکھنے بلکہ جمع کرنے اور بڑھانے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔حضرت پھوپھی جان کے ساتھ میرا ایک اور تعلق یہ بھی تھا کہ میری والدہ کو ان سے بہت پیار تھا اور بچپن سے آنکھ کھلتے ہی جب سے ہوش آئی ہے ہم نے اپنی والدہ کو پھوپھی جان کے لئے بہت غیر معمولی محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پایا اور پھوپھی جان کو بھی جوابا آپ سے بہت تعلق تھا اس لئے میرے لئے ایک قسم کی والدہ تھیں جو فوت ہو گئیں مگر ایسے واقعات دنیا میں ہوتے رہتے ہیں۔صاحب حوصلہ لوگوں کو حو صلے کے ساتھ برداشت کرنے چاہئیں اور خدا تعالیٰ سے صبر مانگنا چاہئے۔صبر مانگنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ صبر عطا فرما دیا کرتا ہے۔پس جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔