خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد ۶ 312 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء نماز جمعہ کے بعد کچھ فوت شدگان کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔پہلے مکرم علی بھائی پارا پیا جو کینیا کے رہنے والے تھے ۱۹۴۱ء میں اسماعیلیہ فرقہ سے احمدی ہوئے۔کروڑ پتی خاندان تھا اور ان کے والد نے سختیاں بھی کیں اور کروڑوں کا لالچ بھی دیا چونکہ انہوں نے لانچ قبول نہیں کیا اس لئے ہر قسم کی دولت سے محروم بھی کر دیا لیکن خدا کے فضل سے ثابت قدم رہے اور بہت ہی نیک دعا گو انسان تھے۔ان کی وفات کی وہاں سے اطلاع ملی ہے۔مکرم محمد رفیق صاحب آف لاہور، محمد سعید صاحب انجینئر راولپنڈی کے والد تھے۔محمد سعید صاحب کو ایک لمبا عرصہ خدام الاحمدیہ میں خدمت کی توفیق ملی ہے۔قائد ضلع لاہور بھی ہوا کرتے تھے اور ویسے بھی سلسلہ میں مختلف کاموں میں ہمیشہ بڑے خلوص سے وقت دیتے رہے ہیں۔ان کے والد کو میں جانتا ہوں بہت نیک اور سادہ مزاج انسان تھے اور اچھی تربیت کی ہے بچوں کی۔فہمیدہ افضل صاحبہ بنت محمد افضل صاحب آف سرگودھا۔ان کے لئے درخواست کی ہے مکرمه اکبری اسماعیل صاحبہ جن کو انگلستان کے آپ سارے لوگ جانتے ہیں یہ ان کی بھیجی تھیں جو عین جوانی کے عالم میں وفات پاگئیں۔مکرم خلیل بٹ صاحب آف جموں کشمیر۔ان کے لئے کشمیر سے نماز جنازہ غائب کی درخواست آئی ہے۔طاہرہ فوزیہ کے متعلق مرزا محمد اکرم صاحب آف لیسٹر نے درخواست کی ہے کہ ۱۸ سال کی بہت نیک بچی ایف۔اے کی طالبہ تھیں آگ کے حادثہ میں وفات پاگئیں۔مکرم عبد السلام خان صاحب ابن مکرم ملک عبد اللطیف خان صاحب مردان کے متعلق ناظر صاحب اعلیٰ قادیان ملک صلاح الدین صاحب نے درخواست کی ہے کہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے۔یہ ان کے ہم زلف تھے۔اسی طرح مکرمہ اہلیہ صاحبہ مکرم محمدابراہیم صاحب فاروق آباد کے متعلق بھی درخواست کی گئی ہے۔بشیراں بیگم صاحبہ اہلیہ حمد نواز صاحب سیکرٹری مال چک ۹ پنیار جو موصیہ تھیں ان کے متعلق بھی نماز جنازہ غائب کی درخواست آئی ہے۔