خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 311

خطبات طاہر جلد ۶ 311 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء کریں گے تو یہ آسان ہو جائے گا۔اگر اللہ صبر نہیں کریں گے تو صبر تو پھر بھی کرنا پڑے گا اور یہی وہ آخری بات ہے جو میں کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔صَبَرُوا ابْتِغَاء وَجْهِ ربهم فرمایا کہ اللہ کے چہرے کی خاطر صبر، اللہ کے منہ کی خاطر صبر کر دیا وہ صبر کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ خدا کے منہ کی خاطر اگر مذہبی قومیں صبر نہ کریں تو کیا ان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟ امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کے منہ کی خاطر صبر کرنا بہترین صبر ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں صبر خود آسان ہو جاتا ہے اگر خدا کے منہ کی خاطر صبر نہیں کریں گے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض منصوبے بڑے وسیع ہوتے ہیں ان کو آپ تبدیل نہیں کر سکتے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ان دکھوں میں سے تو آپ کو پھر بھی گزرنا پڑے گا، ان مصیبتوں کا تو آپ کو پھر بھی شکار ہونا پڑے گا مگر یہ ایک بے لذت زندگی ہوگی تکلیف کی۔تکلیف ہوگی مگر کوئی پیار کرنے والا اپنی رحمت کا پھایا آپ کے دل پر نہیں رکھے گا پھر۔اس لئے صبر کریں اللہ کی محبت کے نتیجے میں اور یادرکھیں اس کے بغیر صبر ہونا بھی نہیں آپ سے۔تکلیف اٹھائیں گے واویلہ کریں گے اپنے ایمان کا نقصان کریں گے ، اپنی جان کا نقصان کریں گے اور حاصل کچھ بھی نہیں ہو گا۔اس لئے یہ ایسا دور ہے جہاں آپ کے لئے کوئی اور رستہ ہی باقی نہیں رہا ایک ہی رستہ ہے الَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمْ اپنے رب کے منہ کی خاطر اس کے پیار کی خاطر صبر کر جاؤ اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کا پیار بڑھاتے چلے جاؤ پھر دیکھو گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کا فضل تمہارے اوپر سایہ بن کر آتا ہے وہ سایہ رحمت بن کر تمہارے ساتھ وفا کرتا ہے تمہیں کبھی نہیں چھوڑتا تمہاری حفاظت فرماتا ہے اور یہ ایسا تجربہ ہے جس میں سے ہر صبر کرنے والا گزرتا ہے صرف جماعت نہیں گزر رہی ہوتی۔کوئی بھی ایسا خدا کی خاطر صبر کرنے والا نہیں ہے جس کو اس صبر کے دوران اللہ کی رحمت کے پھل نصیب نہیں ہو رہے ہوتے۔وہی رحمت کے پھل ہیں وہی خدا کے پیار کے پھل ہیں جو اس کی صبر کی تقویت کا موجب بنتے ہیں جو اس کے راستے کو آسان کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اس رستے کی جتنی بھی مصیبتیں ہیں اور جب تک بھی ہیں ہمیں ان کے لئے صبر عطا کرے اور اپنے پیار کا صبر عطا کرے، اپنی محبت کا صبر عطا کرے کیونکہ صبر ہے ہی وہی جو لینے کے لائق ہے جو قبول کرنے کے لائق ہے باقی صبر کی تو کوئی حیثیت اور کوئی وقعت نہیں ہے۔خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا:۔